طیبہ تشدد کیس :سپریم کورٹ کا ٹرائیل روکنے کا حکم

0
324

سپریم کورٹ نے مجسٹریٹ کی عدالت میں طیبہ تشدد کا ٹرائل روکنےکاحکم دےدیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو مقدمہ منتقل کرنے سے متعلق 15 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

سپریم کورٹ نے سول سوسائٹی کے مختلف افراد کی طرف سے دائردرخواست پرفیصلہ سنایا۔ طیبہ تشدد کیس کامقدمہ مجسٹریٹ حیدرعلی شاہ کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔

چیف جسٹس پاکستان، جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اہم معاملہ طیبہ کی تحویل کا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ چالان میں غلامی اور انسانی فروخت کی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کونساایسا فورم ہےجوغلامی اور انسانی فروخت کی دفعات شامل کرسکتا ہے؟

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں صرف متاثرہ فریق یا ریاست دفعات شامل کراسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہائیکورٹ اپنےاختیارات استعمال کرتےہوئے بھی یہ دفعات شامل کرا سکتی ہے؟

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہائیکورٹ اختیارات کےساتھ غلامی اورانسانی فروخت کی دفعات شامل کرسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بچی کاباپ تحفظ کے لیےنہیں آتاتوعدالت ہی والدین کی ذمے داریاں اداکرتی ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید سماعت 21 مارچ تک ملتوی کردی

SHARE

LEAVE A REPLY