لندن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں یوکے بھر سے ہر رنگ و نسل کے لاکھوں افراد نے شرکت کی، جنھوں نے اپنے ہاتھوں میں مذمتی الفاظ اور ٹرمپ کے کارٹون پر مبنی پلے کارڈ اٹھا رکھا تھے۔
شہر کے وسط میں معروف ٹرافلگر سکوائر میں لاکھوں افراد سے خطاب کرتے ہوئے حزب اختلاف کیلیبر پارٹی کے مقبول رہنما جرمی کوربن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک ایسے نسل پرست لیڈر ہیں جوخصوصا تارکین کے بارے میں اپنی پالیسیوں کے ذریعے نسلی تعصب کو بڑھا وا دے رہے ہیں جو آج کی کثیر ثقافتی دنیا کے لیےایک انتہائی خطر ناک رحجان ہے، اس قسم کے لیڈر کا برطانیہ میں ہرگز ریڈ کارپٹ استقبال نہیں ہونا چائیے، وہ ٹرمپ کی برطانیہ کے سرکاری دورے کے سخت خلاف تھے
اپنے یورپ کے دورے میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ تارکین کی وجہ سے یورپ کی آبادی کی ہیت بدل رہی ہے،
صدر ٹرمپ اپنے پہلے سرکاری دورے پر کل بر طانیہ پہنچے تھے، ان کی آمد پران کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے سیکورٹی کے انتہاہی سخت اقدامات کیے گئے ہیںِ، اورانھیں مظاہرین سے دور رکھنے کے پیش نظر لندن میں ان کی مصروفیات بہت محدود رکھی گیئں، تاہم لندن میں تمام دن ان کے خلاف مظاہرین ان کا پیچھا کرتے رہے اور شہر کے وسط میں پارلیمان کے سامنے ٹرمپ کا کارٹون کو ئی بیس میٹر بلند لہراتا رہا جسے لندن میں سے دور سے دیکھا جاسکتا تھا،
سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ تبصرے چلتے رہے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ایک تو انگلینڈ فٹ بال کپ ہار گیاِ، ہمارے لیے سورج غائب ہو گیا اور طرفہ جفا یہ آج ترمپ بھی لندن پہنچ گئے زندگی میں اس برا اور کوئی دن نہیں ہوسکتا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس دورے میں بریکسٹ کے بارے میں وزیر اعظم ٹریسا مے کو ایک طرح سے ڈانٹ پلائی اور کہا کہ میں نے انھیں یورپی یونین سے جس طرح سے معاہدہ کرنے ہدائت کہ تھی ٹریسا مے نے ویسا نیں کیاِ
انھوں نےوزیر اعظم ٹریسا مے کو یہ دھمکی بھی دی کہ وہ یورپی ہونین کے ساتھ جو تجارتی معا ہدہ کرنے والی ہیں اس کی وجہ سے امریکہ اور بر طانیہ کے درمیان نیا تجارتی معاہدہ نہیں ہوسکے گا،
واضع رہی کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کو جس قسم کے تجارتی مسائل کا سامنا ہوگا
ان کی وجہ سے ٹریسا مے امریکہ سے دو طرفہ تجارتی روابط اور زیادہ بڑھانا چاہتی تھیں، مگر شاید اب وہ سوچ رہی ہوں کہ کاش وہ ٹرمپ کو بر طانیہ کے سرکاری دورے کی دعوت نہ دیتی۔
صدر ٹرمپ یورپ میں بہت غیر مقبول ہیں اور ٹریسا مے وہ پہلی یورپی رہنما ہیں جنھوں نے انھیں برطانیہ آنے کی دورے کی دعوت تھی،تاہم اہل لندن نےاس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اورانتہائی پر امن انداز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنی ناپسندیدگی اور ان کی پالیسیوں کے لئے اپنی نفرت کا برملا اظہار کیا، جو دنیا بھرمیں دیکھا اور سنا گیا اور ٹرمپ بلاشبہ یہ تاثر اور شائد کچھ احساس شرمندگی لیکر لندن سے گئے ہیں کہ کثیر ثقافتی روایات کے حامل اور انسانی حقوق کےعلمبردار شہر میں ان کا استقبال نہیں ہوا۔
ماپارہ صفدر













