سیاہ فام کی ہلاکت کے معاملے پر پولیس اور ورثا میں معاملات طے پاگئے، مینا پولیس انتظامیہ 27 ملین ڈالر ہر جانہ ادا کرے گی۔
46 سالہ جارج فلائیڈ کی موت نے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک کو جنم دیا تھا۔ پولیس اہلکار نے سیاہ فام شہری کی گردن پر دوران گرفتاری نو منٹ تک گھٹنے ٹیکے جس سے اس کی موت ہوگئی تھی۔
دوسری جانب ایک اور سیاہ فام امریکی خاتون بریونا ٹیلر کی پولیس کے ہاتھوں موت کو ایک سال مکمل ہونے پر برسی منائی جا رہی ہے۔ پولیس نے 26 سالہ خاتون کے اہل خانہ کو بھی 12 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔
امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مظاہرے جاری ہیں جبکہ مقتول کے وکلا کا الزام ہے پولیس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ قتل کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایک سفید فام سابق پولیس افسر ڈیرک چاؤن پر ایک 46 سالہ سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کا الزام ہے اور پیر یکم جون کو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ڈیرک چاؤن پر تھرڈ ڈگری قتل کے الزام عائد کیا گیا ہے کہ تاہم وکیل بینجمن کرم نے سی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ یہ فرسٹ ڈگری قتل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا ارادہ تھا۔۔۔۔ انھوں نے تقریباً نو منٹ تک اس شخص کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا، وہ سانس لینے کے لیے بھیک مانگ رہا تھا منت سماجت کر رہا تھا۔
میناپولس کے سابق پولیس اہلکار ڈیرک چاؤن کو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کئی منٹ تک مقتول فلوئڈ کی گردن پر اپنے گھٹنے رکھے۔ تب بھی جب فلوئڈ نے انھیں بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہے۔
ٹی وی پر نظر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اتوار کو مشتعل نوجوانوں نے پولیس کی متعدد گاڑیوں کو تباہ کیا اور کم ازکم ایک سٹور میں لوٹ مار کی۔
مغربی علاقے سے پرتشدد واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کی اور کہا کہ ’فلاڈیلفیا میں لا اینڈ آڈر، ابھی وہ سٹورز کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے نیشنل گارڈز کو بلائیں۔‘
ان مظاہروں میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔
نیشنل گارڈز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی ریزرو ملٹری فورس ہے۔ اس کی جانب سے اتوار کو کہا گیا تھا کہ اس کے پانچ ہزار اہلکار 15 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں متحرک ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ریاست اور مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سکیورٹی کی ذمہ دار ہیں۔
امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ گرفتار پولیس افسر پر قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
ریاست کے گورنر کا کہنا ہے کہ اب وہاں مظاہرے کسی بھی طرح اس ہلاکت کی مخالفت تک محدود نہیں ہیں۔
گورنر ٹم والز نے کہا ہے کہ پوری ریاست کے نیشنل گارڈز کو متحرک کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ملٹری پولیس یونٹس کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
سیاہ فام شخص کی ہلاکت یہ واقعہ منیپولس میں پیش آیا اور اس واقعے کے تناظر میں تین روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔
سنیچر کی رات مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کو بھی آگ لگا دی تھی۔
پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گرفتار جارج فلوئڈ پولیس والے سے یہ التجا کرتے نظر آئے کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے لیکن پولیس افسر ٹس سے مس نہ ہوا۔













