ایران نے امریکا کو کرار جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور دیگر 6 مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد تہران بھی امریکی شہریوں پر پابندی عائد کرے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جسے سرکاری ٹی وی نے نشر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘اسلامی جمہوریہ ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو ویسا ہی جواب دے گا جیسا کہ امریکا نے ایرانی شہریوں کے حوالے سے ہتک آمیز فیصلہ کرکے کیا ہے’۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک امریکا پابندی نہیں اٹھاتا امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی سفارتی مشنز کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ ان ایرانی شہریوں کی معاونت کریں جنہیں امریکا میں اپنے گھر، ملازمت یا تعلیم کے حصول کے لیے داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
ایران میں ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئرلائنز نے ٹرمپ کی جانب سے جاری ہونے والے حکمنامے کے بعد سے ہی امریکا جانے والی پروازوں میں سے ایرانی شہریوں کو اتارنا شروع کردیا ہے۔
قبل ازیں ہفتے کے روز قاہرہ سے نیویارک جانے والے مصر ایئر کی پرواز سے پانچ عراقی اور ایک یمنی شہری کو طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو معطل کرتے ہوئے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔












