شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب صرف اپوزیشن کیلئے بنا، چینی کے معاملے پر وزیراعظم اور ان کی کابینہ قصور وار ہے، صرف ایک ذات سے معافی مانگتا ہوں، سپیکر یا کسی اور سے معافی نہیں مانگ سکتا۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 40 فیصد چینی کے مالکان کو نیب میں بلایا جائے، چینی کا معاملہ سیدھا ہے، قصور وار وزیراعظم اور ان کی کابینہ ہے، نیب کا کیس بنائیں اور وزیراعظم سمیت وزرا کو جیل میں ڈالا جائے، پاکستانی عوام شناختی کارڈ ہاتھ میں لیکر ایک کلو چینی خریدنے کو تیار ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کل کورونا کا بد ترین دن تھا، 23 کروڑ کا ملک خیرات میں ویکسین لیکر لوگوں کو لگا رہا ہے، آج پاکستانی حکومت کورونا ویکسین کا ایک ٹیکہ خرید نہیں سکی، این سی او سی ناکام ہوچکی، اسے بند کریں، این سی او سی عوام کو تحفظ دے سکی نہ پالیسی بناسکی، پوری دنیا نے کورونا پر قابو پالیا، پاکستان میں کورونا بڑھتا جا رہا ہے، وہ دن دور نہیں جب دنیا پاکستان کیلئے بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد کر دے گی۔
…………………….
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نون لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کی جوتا مارنے والی بات کا نوٹس لیتے ہوئے خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان 7 دن میں معذرت کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ دیا گیا ہے جس کے متن میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان تلخ کلامی بڑھ گئی، ن لیگی رہنما نے اسپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی دے دی۔
اجلاس کے دوران شاہد خاقان اسپیکر کے روسٹرم کے سامنے پہنچ گئے۔
سابق وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو شرم نہیں آتی؟
اس پر اسد قیصر نے شاہد خاقان کو جواب دیا کہ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں، یہی آپ کا طرز عمل ہے، اپنی حد میں رہیں۔
سابق وزیراعظم نے تلخ کلامی کے دوران کہا کہ میں آپ کو جوتا اتار کر ماروں گا۔
اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ میں بھی یہی کام آپ کے ساتھ کروں گا، آپ اپنی حد میں رہیں۔
اس کے ساتھ ہی اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ جی شاہد صاحب آپ بات کریں پلیز بات کریں۔
دوران خطاب شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ناموس رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قرارداد مشاورت سے لائی جانی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اب جب کہ آپ نے قرارداد پیش کردی ہے تو ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس پر غور کرکے آئیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمیں ایک گھنٹہ دیں ہم قرار داد لے کر آئیں گے، جو قرار داد دیں اس پر بحث کرائیں گے، ہم چاہتے یہ معاملہ متفقہ طور پر حل ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے












