ایک اسٹڈی میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ جسمانی طورپر زیادہ متحرک بچےخود پر زیادہ کنٹرول رکھتے ہیں،کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے ریسرچرز کے مطابق اس سے ان کی تعلیمی کامیابیوں میں بھی مدد ملتی ہے ،ریسرچرز نے تجویز دی ہے کہ ہر بچے کو جسمانی سرگرمیوں مثلاً پیراکی ،بال اسپورٹس وغیرہ میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیاجانا چاہئےاس سے دولت مندوں اور کم وسیلہ بچوں میں کامیابیوں کی شرح کاتفاوت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ریسرچرز نے یہ رائے11سال سے14سال کے درمیانی عمر کے 4,000 سےبچوں کے ڈیٹا کاتجزیہ کرنے کے بعد دی ہے ،ریسرچ سے ظاہرہوتاہے کہ جسمانی سرگرمیاں خاص طورپر کم وسیلہ اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے بچوں کی بالواسطہ طورپر اسکول میں کامیابیوں اور ذاتی کنٹرول میں اضافے کا سبب بنتی ہیں اس کاایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ کم وسیلہ بچوں کو عام طورپر منظم تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت کا موقع بہت کم ملتاہے اس لئے جب وہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو اس کے بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں ،یہ خاص طورپر ان فیملیز سے تعلق رکھنے والے بچوں کیلئے اہمیت رکھتی ہے اسکول کے باہر اسپورٹس کلب یا دوسری طرح کی جسمانی سرگرمیوں میں شریک ہونا جن کیلئے نسبتاً مشکل ہوتاہے۔ اکتساب کا فرق حقیقی معنوں میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ اس میں سے بعض کاتعلق کم وسیلہ بچوں سے ہے جو بچپن ہی سے خود پر کنٹرول یا سیلف ریگولیشن کے معاملے میں کمزور ہوتے ہیں۔ جسمانی سرگرمیوں سے انھیں ایک ہدف پر نظر رکھنے اور اس کے حصول کی کوشش کاموقع ملتاہے ،ڈاکٹر مائیکل ایلفسن کا کہناہے کہ کورونا کی صورت حال میں بچوں کو اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ وقت کلاس رومز میں رہنے کی ترغیب دی جانی چاہئے تاکہ وہ تعلیم میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔اسٹڈی میں کہاگیاہے کہ کھیل کے اوقات اور نصابی اسباق دونوں ہی بچوں کے ذہن کھولنے کیلئے فائدہ مند ہوتے ہیں بچپن میں ایسی جسمانی سرگرمیاں جو جذبات کو کنٹرول کرنے میں مدد گار ہوں جن میں ایسے کھیل شامل ہیں جن میں ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔رپورٹ تیار کرنے والوں نے تجویز دی ہے کہ اسکول اسپورٹس کلبس کو بچپن میں پسماندگی کے شکار بچوں کیلئے پروگرام تیار کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں ،یہاں تک کہ بچوں کو صرف دوڑ بھاگ کے مواقع فراہم کرنے کے بھی اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یہ ریسرچ رپورٹ

PLoS One

جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY