سر شیخ عبدالقادر کی وفات
٭9 فروری 1950ء اردو کے عظیم محسن اور معروف ماہر قانون سرشیخ عبدالقادرکی تاریخ وفات ہے۔
سر شیخ عبدالقادر15مارچ 1874ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سرسید احمد خان کی تحریک سے مسلمان نوجوانوں کا جو گروہ پیدا ہوا تھا سر شیخ عبدالقادر اس میں پیش پیش تھے۔1898ء میں وہ پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار آبزرور کے مدیر ہوئے اور 1901ء میں انہوں نے اردو کا ادبی جریدہ مخزن جاری کیا۔ دنیائے ادب میں مخزن کو یہ اختصاص حاصل ہوا کہ علامہ اقبال کی بیشتر نظمیں پہلی مرتبہ مخزن ہی میں شائع ہوئی تھیں۔علامہ اقبال کے پہلے اردو مجموعہ کلام بانگ درا کا دیباچہ سرشیخ عبدالقادر ہی نے لکھا تھا۔
1904ء میں سرشیخ عبدالقادر بیرسٹری کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ 1907ء میں انہوں نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا پہلے دہلی پھر لاہور میں وکالت کی۔ 1921ء میں ہائی کورٹ کے جج اور 1935ء میں پنجاب کے وزیر تعلیم بنے۔ 1939ء میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور 1942ء میں بہاولپورکے چیف جج بن گئے۔
سر شیخ عبدالقادر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————–
–
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی پیدائش
٭ عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ 9 فروری 1908ء کو حیدرآباد (دکن) کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مدرسہ نظامیہ سے مولوی کامل اور جامعہ عثمانیہ سے بی اے، ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئے اور 1932ء میں جرمنی کی بون یونیورسٹی سے ڈی فل کیا۔ ان کی اعلیٰ قابلیت کے باعث انہیں بون یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر کیا گیا۔ بعدازاں وہ پیرس آگئے جہاں انہوں نے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ سات دہائیوں تک علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ وہ متعدد علمی اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے سات زبانوں میں سو سے زیادہ کتابیں اور ایک ہزار سے زیاہ مضامین تحریر کئے۔ وہ 22 زبانیں جانتے تھے۔ وہ قرارداد مقاصد کی منظوری کے وقت پاکستان آئے اور اس وقت حکومت پاکستان نے ان سے اہم مشورت اور معاونت حاصل کی۔ انہوں نے جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں بارہ لیکچر بھی دیئے جو خطبات بہاولپور کے نام سے مشہور ہوئے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے قرآن پاک کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا اور فقہ حدیث اور سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوئوں پر لاتعداد کتابیں تحریر کیں۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ صحیفہ ہمام ابن منبہ کی تدوین ہے۔ 101ھ میں تحریر کردہ اس کتاب کی مختلف جلدیں دنیا کے مختلف ممالک کے کتب خانوں میں محفوظ تو تھیں مگر کوئی انہیں یکجا کرنے والا نہ تھا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے انہیں مدون کرکے شائع کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحریروں کی بدولت امریکا، یورپ اور افریقہ میں اسلام بھی بڑی سرعت سے پھیلا اور صرف فرانس میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
حکومت پاکستان نے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو ہلال امتیاز کا اعزاز عطا کرکے اپنے اس اعزاز کی قدر و قیمت میں اضافہ کیا تھا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ 17 دسمبر 2002ء کو جیکسن ولے، فلوریڈا امریکا میں وفات پاگئے جہاں وہ علاج کی غرض سے مقیم تھے۔
—————————-
سندھ چیف کورٹ نے دستور ساز اسمبلی کو بحال کردیا
٭9 فروری 1955ء کو سندھ چیف کورٹ نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کے چند اہم ترین مقدمات میں سے ایک مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔
یہ مقدمہ مولوی تمیز الدین نے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے دائر کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ اسمبلی چونکہ قانون ساز اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ دستور ساز اسمبلی بھی تھی اس لئے اس کو توڑنے کا حق کسی اتھارٹی کے پاس نہیں تھا۔ یہ اسمبلی دستور کی تکمیل پرازخودختم ہوجاتی اس سے قبل اس کی تحلیل کا ایک ہی طریقہ تھا اور وہ یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتی۔ مولوی تمیزالدین کا موقف یہ بھی تھا کہ اسمبلی کو توڑنے کے گورنر جنرل کے حکم نامہ میں یہ تو کہا گیا تھا کہ دستور ساز اسمبلی اپنی موجودہ شکل میں عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہے اور یہ اپنا کام مزید جاری نہیں رکھ سکتی مگر اس پورے اعلان نامہ میں اسمبلی کو توڑنے کا لفظ شامل نہیں تھا۔ ان کے خیال میں ایسا اس لئے تھا کہ گورنر جنرل کو معلوم تھا کہ ایسی کوئی اتھارٹی موجود ہی نہیں ہے جو اسمبلی کو توڑنے کا اختیار رکھتی ہو۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرجارج کانسٹنٹائن کی سربراہی میں فل بنچ نے 9 فروری 1955ء کو اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنا دیاعدالت نے اپنے متفقہ فیصلہ میں لکھا کہ گورنر جنرل کا دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا اقدام غیر قانونی تھا اور یہ کہ اسمبلی اور اس کے صدر قانون کی نظر میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کو ان ذمہ داریوں کی ادائی کی راہ میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔جسٹس محمد بخش میمن نے اپنی رائے لکھتے ہوئے کہا میں اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں کہ گورنر جنرل کو اسمبلی توڑنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اسمبلی توڑنے کے اعلان نامے کی زبان بھی غیر معمولی ہے۔ اس میں صاف اور واضح الفاظ میں دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔بالعموم جب کوئی حکم نامہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں قانون کی اس شق کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے تحت اختیار کو استعمال کیاگیا ہو۔مگر گورنر جنرل کے اعلان نامے کو تحریر کرنے والوں کے سامنے ایسا کوئی قانون ہی نہیں تھا جس کا وہ حوالہ دے سکتے۔
——————–
مرید بلیدی کی وفات
٭9 فروری 1986ء کو پاکستان کے مشہور لوک فنکار مرید بلیدی طویل علالت کے بعد کندھ کوٹ کے قریب انتقال کرگئے۔
مرید بلیدی 1926ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے تھے ان کا شمار بلوچستان کے مشہور سازندوں اور گلوکاروں میں ہوتا تھا۔حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1979ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
وقار زیدی ۔ کراچی













