برطانوی وزیر اعظم ٹيریزا مے نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کيس کے حوالے سے حقائق کو عام کیا جائے۔ ادھر ترکی کی حکمران پارٹی نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل ’بھیانک منصوبہ بندی‘ کے تحت کیا گیا۔ ساتھ ہی اس سعودی موقف کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے کہ جمال کی موت لڑائی کے نتیجے میں ہوئی۔
اے کے پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے کہا کہ اس قتل کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ ادھر یورپی ممالک نے کہا ہے کہ جمال کے قتل کے حوالے سے مکمل چھان بین کی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔ سعودی حکومت اعتراف کر چکی ہے کہ جمال کا قتل استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ہوا۔












