آج ایک عرصے بعد کسی کالم کے لیئے قلم اٹھانے پر جیسے ضمیر نے در دل پہ دستک دے دے کر مجبور کر دیا کہ سچ کا علم اٹھانے کا دعوی کرنے والے ہو تو لکھو اس ظلم پر ۔ کیوں خاموش ہو مسلم حاکموں کی طرح ، انکے درباری لکھاریوں کی طرح

اس ایک خبر کی سرخی نے جیسے مجھے شرمندگی کے کنویں میں دھکیل دیا اور مجھے جیسے خود سے کراہت آنے لگی کہ ایک بڑے اور اہم مسلم ملک کے حاکم کی یہ حالت؟ وہ جسے دنیا بھر کے لیئے سادگی اور عوام دوستی کا نمونہ اور مظہر ہونا چاہیئے اسکی شاہ خرچیوں کی یہ حالت

اس خبر نے جیسے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا اللہ کے ہاں ہی انصاف ختم ہو گیا ہے۔

یہ خبر اس طرح ہے

سعودی عرب کے شاہ سلمان کا شاہانہ دورہ روس، 400 ٹن وزنی سامان میڈیا کی توجہ کا مرکز

سعودی بادشاہ سلمان کے روس کے دورے کے دوران، 150 باورچی، سینکڑوں کلوگرام کھانا، دو مرسڈیزگاڑیاں، سونے کی برقی سیڑھی اور انکا پسندیدہ قالین عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی بادشاہ تین روزہ شاہانہ دورے پرروس پہنچے ہیں۔ روس میں شاہ سلمان سے زیادہ شاہ سلمان کے ساتھ آیا سٹاف اور انکا سامان میڈیا میں زیر غور ہے۔ شاہ سلمان کے سامان کا وزن چار سو ٹن کے قریب تھا جس میں سینکڑوں کلوگرام کھانا، دو مرسڈیز گاڑیاں، سونے کی برقی سیڑھی، اور اپنا پسندیدہ قالین بھی شامل تھا۔ 81 سالہ سعودی بادشاہ روس کے دورے کے دوران 150 باورچی اور 1500 سٹاف بھی ساتھ لے کر گئے ہیں۔ مہمانوں کی مہمان نوازی کے لیے روس میں دو ہوٹل کرائے پر لیے گئے ہیں جن کا ٹوٹل بل تیس لاکھ ڈالرز بنتا ہے۔

انااللہ و انا الیہ راجعون

Russia_Saudia

یہ تو اس دورہ روس کی خبر ہے لیکن اس پہلے ہونے والے دورہ انڈونیشیا کا حال سن لیجئے جسے برطانیہ کے اخبار ٹیلیگراف نے ان الفاظ میں شائع کیا ہے
The Saudi monarch clearly did not view the visit lightly. Accompanied by an entourage of 1,500, including 25 princes and several government ministers, King Salman also brought 459 tonnes of luggage for his nine day trip.

Two elevators and two Mercedes Benz S600s were included among the travel essentials for his three day visit to the capital, Jakarta, which will be followed by six days of “relaxing” in the popular holiday resort of Bali.

ان انگریزی سطور کا ترجمہ آپ خود کر لیجئے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میرے ترجمے کو آپ سعودی عرب کی دشمنی اور ایران کی محبت سے تعبیر کریں

یا رسول اللہ،یا حبیب اللہ، یہ ہیں مسلم حاکم، تُف بر تو اے آسمان۔ خادم ہیں یہ حرمین شریفین کے؟ میں سوچتا ہوں کہ کائنات میں کیا کہیں انصاف ہے؟ کوئی ہے جو ان مکروہ عزائم کے حامل لوگوں کے خلاف آواز اٹھائے، جونک تو ایک مرتبہ خون پی کر چھوڑ دیتی ہے لیکن یہ جونکیں برسوں اپنے عوام کے خون پر پلتی ہیں۔ جس کا جی چاہے مجھے کافر کہہ لے لیکن کُفر تو یہ ہے جو ہو رہا ہے

سوچتا ہوں تیل کی دولت تو مملکت کی ہے اور حاجیوں کی دولت اللہ رسول کی ہے تو پھر یہ دولت کس کی خرچ ہو رہی ہے،کوئی ایک مسلم حاکم تو ہو جو اس انتہائے اسراف پر زبان کھولے

کچھ عرصے قبل یہی شاہ سلمان فرانس بھی اسی کروفر سے آئے تھے لیکن وہاں کے عوام نے انہیں پیش از وقت جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس خبر پہ بھی ایک نظر ڈالتے چلیں

Saudi-Arabia-King-Salman-france

فرانس میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے سعودی شاہ سلمان کی آمد پر مشہور ساحلی تفریحی مقام ’فرینچ رویرا‘ تک عوام کی رسائی پر پابندی کے خلاف پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔سعودی عرب کے شاہ سلمان تین ہفتے کی چھٹیاں منانے کے لیے فرانس کے مشہور ساحلی مقام ’فرینچ رویرا‘ پہنچے ۔فرانسیسی عوام کی جانب سے اس پٹیشن میں اصرار کیا گیا ہے کہ ’فرینچ رویرا‘ کا ساحل ہر خاص و عام کے لیے کھولا ہونا چاہیے۔
سعودی عرب کے شاہ سلمان کی آمد کی وجہ سے مقامی حکام نے فرینچ رویرا تک عوام کی رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے جس پر کئی مقامی لوگ خاصے برہم ہیں۔
ساحلی قصبے ویلیرئس کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے عام لوگوں کے ساحل پر جانے پر یہ پابندی شاہ سلمان اور ان کے ساتھ آئے ہوئے اُن ایک ہزار افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لگائی ہے۔سعودی شاہ اور تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل اُن کے قافلہ کو لےکر سعودی ائیر لائن کے دو بوئنگ 747 جہاز سنیچر کو نیس ائیرپورٹ پر اترے ۔شاہ کے قریبی افراد اُن کے ساتھ ولا میں ہی قیام کریں گے جبکہ باقی سات سو افراد کانز کے ہوٹلوں میں رہے۔کانز کے ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ’یہ مقامی معیشت اور ہوٹلوں کے لیے یقینی طور پر اچھی خبر ہے۔‘
دوسری جانب سعودی شاہ کے ولا کے قریب ساحلی علاقے کو بند کرنے پر مقامی سیاح بہت ناراض ہیں۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ یاد کروانا چاہتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی جگہ ہے جو دیگر ساحل کی طرح عوام کی ملکیت ہے اور ہر رہائیشی، ملکی و غیر ملکی سیاح اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں یا یہاں سے گزر سکتے ہیں۔‘
ساحل پر عوام کی آمد پر پابندی کے علاوہ حکام نے ساحل سمندر پر سیمنٹ کی سِلیں بھی رکھیں ہیں تاکہ شاہ سلمان کو اپنی قیام گاہ سے ساحل تک جانے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کئی لوگوں نے ریت پر سیمنٹ کی سِلیں بچھانے کی بھی مخالفت کی ہے۔ساحلی قصبے ویلیرئس کے مئیر نے بھی فرانسیسی صدر کے نام لکھے گئے خط میں سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیراتی کام پر احتجاج کیا ۔

اور اس رد عمل کے نتیجے میں شاہ سلمان افرانسیسی ساحلی علاقے میں اپنی تعطیلات مختصر کرتے ہوئے مراکش چلے گئے۔ ان کی موجودگی کی وجہ سے ساحل تک عوامی رسائی پر پابندی عائد تھی، جس پر مقامی آبادی سراپا احتجاج تھی۔

آپ نے عوام کی طاقت دیکھی؟ کیا کسی بھی مسلم ملک میں عوام کے پاس ایسی طاقت ہے؟ کیا خود سعودیہ کے عوام ان عیاشیوں پر کوئی سوال اٹھا سکتے ہیں؟

ایک لمحے کو سوچیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اور اسکے رسول کے غلام کہلانے والے ایسے سفر کرتے ہیں

وقت ملے تو ذرا اس خبر پر بھی ایک نگاہ ڈال لیجئے گا اور سوچیں کہ سعودیہ کو اسقدر اسحلہ کیوں درکار ہے؟ کس سے اسکی سالمیت کو خطرہ ہے؟

سعودی عرب کے لیے 15 ارب ڈالر کے امریکی میزائل دفاعی نظام کی منظوری

صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY