پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرزمین کتنے ہی حوالوں سے اہم ہے شاید ہم نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کی کسی بھی حکومت نے اس سرزمین اور اسکے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھا اور نہ ہی اسکے زیر زمین خزانوں سے فیوض حاصل کرنے کی کوئی طویل منصوبہ بندی ہوئی۔ یہاں کے عوام کی حالت اکثر ناقابل بیان ہے۔ راولپنڈی میں مقیم ہماری ساتھی ارم نقوی نے عالمی اخبار کے لیئے خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے تحاریر کا ایک تحقیقی،فکری اور علمی سلسلہ شروع کیا ہے جس کے لیئے میں ذاتی طور پر عالمی اخبار عمومی طور پر ارم نقوی کا ممنون ہے۔ اُمید ہے سنجیدہ قارئینکے لیئے یہ اقساط فیض رساں اور معلومات میں اضافے کا موجب بنیں گی۔۔۔۔ صفدر ھمدانی۔ مدیر اعلیٰ۔عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلوچستان ۔۔۔سرزمینِ بلوچ
از: ارم اقبال نقوی
 قسط ایک

سلام ۔۔۔اللہ ترا سلامت بکنت ۔ ۔ ۔ ۔فارسی زبان سے ملتی جلتی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بولی جانے والی یہ میٹھی زبان بلوچی زبان کہلاتی ہے۔بلوچ قوم اور ان کی زبان پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح اپنا ایک مخصوص تاریخی پس منظر اور ثقافتی تشخص کی حامل ہیں ۔ بلوچ قوم کو عموماعربی النسل لکھا جاتا ہےاوربلوچستان کے تمدن و ثقافت کے آثار میں نہ صرف طلوعِ اسلام بلکہ اس سے بھی قبل کے تاریخی حوالے بھی بیان کیئے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ہم اس سلسلہِ مضامین کی اگلی قسطوں میں تفصیلی بحث کریں گے تاہم یہاں فقط یہ بیان کرنا ہے کہ بعض بلوچ سردار اورمحققین بلوچ قوم سے متعلق اس روایت سے ہٹ کر بھی اپنی تاریخ بیان کرتے ہیں ۔جیسا کہ نواب اکبر بگٹی نے اپنی ایک تحریر میں بلوچوں کی تاریخ کچھ یوں بیان کی ہے ۔

” بلوچوں کی نسلی ابتدا پردہِ اخفا میں ہے ۔ ہمارے بعض ابھرتے ہوئے تاریخ نویس، بلوچوں کے ڈانڈے بابل اور اس کے قرب و جوار سے ملانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔اس کی وجہ ان کے حسنِ قیاس اور جذباتیت کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔   ۔   ۔   ۔ ۔   ۔   ۔”

وہ مزید لکھتے ہیں کہ

“تعجب ہے کہ ہمارے تاریخ نویس اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کیوں شرماتے ہیں کہ عیسوی دور سے پہلے کی تاریخوںمیں بلوچوں کا من حیث القوم کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ انہوں نے کوئی سلطنت نہیں قائم کی اور نہ ہی کوئی نتیجہ خیز فتوحات حاصل کیں ۔ وہ تو محض خانہ بدوش تھے سیدھی سادھی زندگی گزارنے والے ، جو وسطِ ایشیا کے مرغزاروں میں خوراک کی تلاش مین بادیہ پیمائی کرتے رہے ۔ “۔۔۔۔۔(تاریخ ِ بلوچستان شکصیات کے آئینے میں ۔۔۔ از : عزیز محمد بگٹی )

ہم اس تاریخی بحث کو اگلی ا قساط پر موقوف رکھتے ہوئے ابتدائی دو اقساط میں فقط موجودہ بلوچستان کا ایک شماریاتی تعارف پیش کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد بلوچستان کی تاریخ ، زبان و ادب اور دیگر موضوعات پر الگ الگ اقساط پیش کی جائیں گی ۔

جب ہم صوبہ بلوچستان کا جغرافیائی جائزہ لیتے ہیں تو جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ 33 اضلاع پر مشتمل صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ جس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹر اور آبادی 2018 کی مردم شماری کے مطابق 12344408 ہے ۔

بلوچستاان کے 33 اضلاع کے نام حسب ذیل ہیں ۔ ضلع آواران   ، ضلع بارکھان ، ضلع بولان ، ضلع چاغی ، ضلع ڈیرہ بگٹی         ، ضلع گوادر ،   ضلع ہرنائی ، ضلع جعفر آباد     ، ضلع جھل مگسی   ، ضلع   قلات   ،ضلع کیچ ، ضلع خاران   ، ضلع کوہلو ، ضلع خضدار   ، قلعہ عبداللہ       ، ضلع لسبیلہ   ، ضلع لورالائی     ، ضلع مستونگ     ، ضلع موسیٰ خیل ، ضلع نصیر آباد ، ضلع نوشکی   ، ضلع پنجگور   ،ضلع پشین   ، ضلع کوئٹہ ، ضلع شیرانی ، ضلع   سبی ، ضلع واشک ، ضلع   ژوب، ضلع صحبت پور ،ضلع زیارت، قلعہ سیف اللہ ،ضلع کچھی ، ضلع لہڑی

قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس کہ سال 2018 یو،این، ڈی پی (یونائٹد نیشن ڈویلوپمنٹ پروگرام ) کے تحت کیئے گئے سروے کے مطابق بلوچستان ہمارے ملک کا سب سے پسماندہ غریب ترین علاقہ ہے۔ بلاشبہ اس اس صوبے کی پسماندگی کی بہت سی وجوہات میں سب سے اہم یہی ہے کہ اس صوبے میں شرحِ خواندگی اور ترقی وروزگار کے مواقع کم ہونے کے باعث یہاں کم آبادی اور وسیع رقبے کے باوجود خوشحالی اور استحکام کی فضا ویسی نہ پیدا ہو سکی جیسی کہ ہونی چاہیئے تھی ۔اپنے دامن میں مخصوص سیاسی و اقتصادی پس منظر لیئے ہوئے یہ بھی ایک طویل اور بحث طلب موضوع ہے تاہم اس بحث میں پڑے بغیرہم بلوچستان کے شماریاتی تعارف کی جانب بڑھتے ہیں ۔

محلِ وقوع کے اعتبار سے بلوچستان اپنی 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی کے باعث جنوبی ایشیا کی ایک اہم بندرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔صوبہ بلوچستان کے شمال میں افغانستان، صوبہ خيبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ و پنجاب اور مغرب میں ایران واقع ہے۔ اس کا 832کلو میٹر سرحد ایران سے ملا ہوا ہے ۔ ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان( کردستان ) کہلاتا ہے اور جس کا دار الحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے -اور وہاں کے بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے – افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ بلوچستان کی 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

بلوچستان کے ذرائع نقل وحمل کا ایک جائزہ :۔

بلوچستان کے اس خطے کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہونے کے باعث یہاں کے ساحل اور ذرائع نقل و حمل بھی خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔یہاں پر موجود بندرگاہ کے انتظام سے لے کرڈاک اور ریل کے نظام تک کی تاریخ قیامِ پاکستان سے قبل کی ہے ۔

ڈاک کا نظام :۔   1863 میں گوادر میں پہلا تار گھر (ٹیلی گرام آفس )قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تار گھر بنایا گیا۔1894کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903کو پسنی اور1904کو اورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔1947میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اور پاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ یہ علاقہ قلات میں شامل تھا۔

ریل کا نظام :۔نیزدنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق۔۔۔”برٹش دور حکومت میں بلوچستان میں 1400 کلومیٹر سے زائد ریلوے لائنوں کا جال بچھایا گیا۔ وسائل کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر انجئنیرز اور لیبر کی محنت کے بعد 30 سرنگیں اور 800 سے زائد خوبصورت پل تیار کیے گئے جو خوبصورتی اور پائیداری میں اپنی مثال آپ ہے۔بلوچستان میں ریل کی پٹری بچھانے کا آغاز 16 اکتوبر 1879ء میں ہوا۔ بلوچستان کے سنگلاغ پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے یہاں ریلوے کا نظام بچھایا گیا۔ (دنیا نیوز: کوئٹہ)

بلوچستان میں واقع ریلوے لائن پر کل 66ریلوے اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ جن میں سے 24اسٹیشنز بند کر دیے گئے ہیں۔ اب42اسٹیشنز ہیں۔ بولان ٹریک پر تمام ریلوے اسٹیشن انتہائی خوبصورت انداز میں تعمیر کیے گئے ہیں ان میں کولپور صوبے کا خوبصورت ہِل اسٹیشن ہے۔ن کے علاوہ سپیزنڈ میر جاوا اور کوئٹہ چمن ریلوے لائن پر بھی قابل دید سرنگیں واقع ہیں

برطانوی عہد میں اس طویل ریلوے لائن کے بچھائے جانے کے دوران راستے میں جو   سنگلاخ پہاڑ آئے ان میں سے سرنگیں نکال کر راستی بنایا گیا اور یوں اس دور کے دنیا کے کے نقشے پر بہت سی قابلِ ذکر سرنگوں کا ایک نیا سلسلہ ابھرا ۔ ۔       ان میں سے نمایاں نام یہ ہیں ۔پیر پنجہ، پنیر، ربولان، کوژک یا خوجک سرنگ (شیلا باغ سرنگ) ،کیس کیڈ ،میری جین، نشپہ اور ونڈی کارنر۔ ان سرنگوں میں کوژک سُرنگ یا خوجک سرنگ (شیلا باغ سرنگ) اس دور کی برِصغیر کی طویل ترین سُرنگ کے طور پر مشہور ہے اور یہ سطحِ سمندر سے 6,398فُٹ بلندی پر واقع ہے۔ جب یہ مکمل ہوئی تو اس وقت وہ برِ صغیر کی پہلی ، ایشیا کی دوسری اور دنیا کی چوتھی طویل ترین سرنگ تھی ۔ھکومت پاکستان کے جاری کردہ پانچ روپے کے نوٹ کی پشت پر بھی اسی سرنگ کی تصویر ہے ۔

دیگر سرنگوں میں پنیر سرنگ جو درہ بولان کی 21 سرنگوں میں سب سے طویل شمار ہوتی ہے۔ جس کے اندر سے آج بھی ٹرین گزرتے ہوئے تقریباً 3منٹ لیتی ہے۔الغرض اڑھائی صدی گزر جانے کے باوجود آج تک بلوچستان میں بچھایا گیا ریلوے لائنز کا جال اپنی مثال آپ ہے ۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ کے باعث اشد ضروررت مھسوس ہوتی ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع الرقبہ صوبے میں مزید سے بھی ریلوے کے نظام کو مزید بہتر اور وسیع کیا جائے تاکہ عوام زیادہ سے زیادہ باسہولت سفر کر سکیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارم اقبال نقوی

SHARE

LEAVE A REPLY