آٹھویں قسط
امام حسین عليہ السلام نے
کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد اصل صورت حال جاننے کے لئے
مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا
مسلم کے کوفہ پہنچنے کے پہلے ہی دن
بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی
کوفہ کے اموی حاکم بشیر نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا
کوفیوں کے جذبات سے متاثر ہو کر مسلم بن عقیل نے
امام حسین عليہ السلام کو کوفہ آنے کا خط لکھ دیا
ادھر کوفے میں
لوگوں کے بدلتے رویئے اور اندرون حالات کے بدلاؤ پر
یزید نے
نعمان کو معزول کر کے عبیداللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کر دیا
ابن زیاد نے کوفہ پہنچ کر
اعلان کیا ۔۔ کہ ۔۔
جو لوگ مسلم بن عقیل سے
اپنی وفاداریاں توڑ لیں گے
صرف انہیں کوفے میں امان دی جائے گی
اس کے بعد ہر محلہ کے رئیس کو بلایا
انہیں اپنے اپنے علاقہ کے امن و امان کا ذمہ دار قرار دیا
اور ۔۔۔ مسلم بن عقیل کی جائے پناہ کی تلاش شروع کردی
اس وقت مسلم بن عقیل
ایک محب اہل بیت ہانی بن عروہ کے ہاں پناہ گزین تھے
عبیداللہ بن زیاد نے
ہانی کو بلا کر مسلم بن عقیل کو پیش کرنے کا حکم دیا
ہانی کے انکار پر انہیں قید میں ڈال کر ایذایئں پہنچائی گیئں
کچھ ہی دیر میں
شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ہانی قتل ہو گئے
یہ خبر سنتے ہی
مسلم بن عقیل نے
اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا
ابن زیاد کے پاس اس وقت صرف پچاس آدمی موجود تھے
چنانچہ اس نے حکمت سے کام لیا
اور امراء کی ترکیب پر عمل کیا
لوگوں کو بہکانے اور منتشر کرنے میں کامیاب ہو گیا
آخر میں
مسلم بن عقیل کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے
مجبوراً مسلم بن عقیل نے ایک بڑھیا کے گھر پناہ لی
لیکن ۔۔ صد افسوس
اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر ابن زیاد کو مخبری کر دی
ابن زیاد نے اطلاع پاتے ہی مکان کا محاصرہ کر لیا
ہائے ۔۔۔ حضرت مسلم بن عقیل تن تنہا رہ گئے
لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہو گئے
محمد بن اشعث نے انہیں امان دلوانے کے وعدہ پرگرفتار کر لیا
اور ابن زیاد کے سامنے پیش کر دیا
ابن زیاد نےامان دینے کے وعدے کو پس پشت ڈال دیا
اور ۔۔ مسلم بن عقیل کے قتل کا حکم دے دیا
مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث سے وعدہ لیا اور کہا
میرے قتل کی اطلاع امام حسین عليہ السلام تک پہنچا دینا
اور انہیں میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا ۔۔۔۔ کہ
’’اہل کوفہ پر ہرگز بھروسا نہ کریں
اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں وہیں سے واپس چلے جائیں‘‘
ابن اشعث نے اپنا وعدہ پورا کیا
اور ایک قاصد حضرت امام حسین عليہ السلام کی طرف روانہ کر دیا
اہل مکہ اور اصحاب مدینہ نے
امام عالی مقام کو کوفہ جانے سے باز رکھنے کی پوری کوششیں کیں
انہیں کوفیوں کا سابقہ غدارانہ طرز عمل یاد دلایا
عمرو بن عبدالرحمن، عبداللہ ابن عباس، عبداللہ بن زبیر نے سمجھایا
’’ کوفہ میں یزید کی حکومت ہے
جاری ہے













