شاعر اہل بیت-گوہر جارچوی داستان گو : ظفر معین بلے جعفری

0
2056

شاعر اہل بیت اطہار ع ، استادوں کے استاد – گوہر جارچوی
داستان گو : ظفر معین بلے جعفری

معروف شاعر اہل بیت اطہار ع اور استادوں کے استاد جناب گوہر جارچوی نے مولائے کائنات حضرت المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور مخدومۂ کائنات بنت رسول مقبول ، بتول بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شادی خانہ آبادی کے حوالے سے جو منقبتی سہرا بعنوان علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی لکھا اور ایسی محبت و عقیدت کے رنگ بکھیرے ، وہ آج بھی دیس دیس کی فضاؤں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور رہتی دنیا تک محبان علی و فاطمہ کی توجہ کا مرکز بنے رہیں گے۔ استاد گوہر جارچوی سے میری محبت کا رشتہ ایسے ہی بصیرت زا اور ایمان افروز کلام کی بنیاد پر قائم ہوا۔ شعرائے کرام کا منقبتی کلام میری روح کی غذا ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فارغ التحصیل استادوں کی محفل میرے والد بزرگوار قبلہ سید فخرالدین بلے کے آنگن میں سجی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک تنظیم بنا رکھی تھی قافلہ ۔ اس قافلہ کے زیر اہتمام ہمارے ہاں جو محفلیں سجتیں ، انہیں پڑاؤ کا نام دیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ۱۹۹۰ انیس سو نوے کی دہائی میں علامہ طالب جوہری ، احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر اجمل نیازی ، اختر حسین جعفری ، صدیقہ بیگم ، سرفراز سید ، شہزاد احمد ، اشفاق نقوی ، اسرار زیدی ، منظر حسین اختر اور بہت سے ارباب ادب قافلے کے پڑاؤ میں موجود تھے۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ نے میرے والد سید فخرالدین بلے سے فرمائش کی کہ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو منقبت کہی تھی ہمیں وہ سنائیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے

واللہ بے مثال تھی شادی بتول کی
بیٹا خدا کے گھر کا تھا ، بیٹی رسول کی

اب ملاحظہ فرمائیے استاد گرامی جناب گوہر جارچوی کی مشہور زمانہ منقبت کہ جو مولاۓ کائنات و معصومۂ کونین اور مخدومۂ کائنات کے عقد ِمبارک کی نسبت سے سہرا ہے۔

منقبت : علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی
منقبت نگار : استاد گوہر جارچوی

علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی
سبھی خوش ہیں خدائ بھی خدا بھی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

لڑکا خدا کے گھر کا لڑکی ہے نبی ۖ کے گھر کی
وہ ارض و سما کا مالک یہ ملکہ بحر و بر کی
زمیں رخشا ، ہے رخشا آسماں بھی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

حیدر ہے کل ایماں اور کل عصمت زہرا
اس سر پہ وفا کا سہرا ، اس سر پہ حیا کا سہرا
وہ شہزادہ ہے اور یہ شہزادی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

بولا یہ خدا ہر جانب رحمت کی گھٹا برسے گی
جو بغض سے بنجر ہوگی بس وہی زمیں ترسے گی
اٹھو جبرئیل یہ کردو منادی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

بارات چلی حیدر کی رحمت کے ساۓ شاۓ
بارات کے آگ قرآن قصیدے گاۓ
نبی سارے چلے بن کر براتی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

قدرت کی طرف سے ان کو تحفے اور ملیں گے
ان کے حسیں آنگن میں دو اصلی پھول کھلیں گے
حسیں شجرے جنہیں دیں گے سلامی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

کیسے ہو بیاں وہ منظر جب ختم ہوئی سب رسمیں
کونین کی ہر شے گوہر کہتی تھی کھا کر قسمیں
مبارک ہے مبارک ہے یہ شادی
علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی

حقیقت تو یہ ہے کہ استاد گوہر جارچوی نے میری یادوں کے دروازے کھول دیئے ہیں ، وہ آج کل شدید بیمار ہیں۔ اس لیے میری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین ۔ استاد گوہر جارچوی کی دعائے صحت کی اپیل امیریکہ میں مقیم ہمارے انتہائی مقرب ، استاد ، خیر خواہ ، برادر محترم اور قادرالکلام شاعر جناب عارف امام صاحب نے بھی کی ہے اور اس وقت مجھے استاد گوہر جارچوی کا خوبصورت کلام یاد آرہا ہے۔ چھانے لگی ہے شام غریباں۔ نے میرے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی ہے اور نادعلی کا ورد جو کرتی چلی گئی ، نہ پونچھئیے کہ کیا حسین ہے ، اتنا شاندار اور جاندار کلام ہے کہ سبحان اللہ ۔ دل کی زبان سے ناد علی کا ورد جاری ہوگیا ہے۔ آپ بھی استاد محترم گوہر جارچوی کا یہ خوبصورت کلام ضرور پڑھیں اور سنیں لیکن پہلے درود شریف کے ساتھ ایک بار نادعلی پڑھ کر محترم و مکرم گوہر جارچوی کے لیے یہ دعا ضرور کریں کہ اللہ تبارک و تعالی انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین الہی آمین

استادوں کے استاد محترم گوہر جارچوی اور ان کے خاندان کے چند بزرگوں سے بھی ہمیں تعلق داری کا اعزاز حاصل ہے۔ بہت سی حسین ملاقاتیں ، قصے اور باتیں ہیں جن کو ہم کسی الگ مضمون کا حصہ بنائیں گے اور محبان شاعر اہل بیت اطہار ع کو اپنی داستان سنائیں گے۔
ہم اپنی اس مختصر سی تحریر کا اختتام استاد گرامی گوہر جارچوی کے شہرۂ آفاق پر کرتے ہیں۔ نہ پوچھئے کہ کیا حسین ہے۔ بصد عقیدت و احترام پیش خدمت ہے یہ ہر دلعزیز کلام

منقبت : نہ پو چھئیے کہ کیا حسین ع ہے
کلام : گوہر جارچوی

نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے
نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے

خدا کے دیں کا ناخدا ہر ابتداء کی ابتداء
کرم کی انتہا حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

کرے جو کوئ ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
جہاں میں ہر لحاظ سے حسین بے مثال ہے
یہ ہو چکا ہے فیصلہ نہ کوئ دوسرا خدا
نہ کوئ دوسرا حسین ہے کیا حسین ہے

ہے جس کی فکر کربلا حسین وہ دماغ ہے
یہ پنجتن کی انجمن کا پانچواں چراغ ہے
حسن کا پہلا ہمسفر علی کا دوسرا پسر
امام تیسرا حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

اسـیر شــام پر نگــاہ کی تو حر بنا دیا
جو مر رہے تھے ان کو زندگی کا گرسکھادیا
حسین ہے حیات گر حسین عظمتوں کا گھر
عظیم رہنما حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

کرو کے گر مخالفت غم حسین کی یہاں
وہ حشر ہوگا حشر میں کہ الحفیظ و الماں
جہاں بھی چھپنے جاؤ گے کہیں پہ بچ نہ پاؤ گے
کہ ہر جگہ میرا حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

میان دشت نینوا الٹنے فوج اشقیا
بڑھا جو شاہ کربلا اٹھا کہ تیغ لافتی
لگی جو سر اتارنے کہا یہ ذوالفقار نے
غضب کا سورما حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

شہید کربلا کا غم جسے بھی ناگوار ہے
وہ بدعمل ہے بد نصب اسی پہ بےشمار ہے
ارے او دشمن عزا تو مر ذرا لحد میں جا
پتا چلے گا کیا حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

قضا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئ
فشار سے عذاب سے مجھے نجات مل گئ
سوال جب کیا گيا ہے کون تیرا رہنما
تو میں نے کہہ دیا حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

ہدایت حسین پر عمل کرو حسینیو
رہے گيں ہم بہشت میں یقیں رکھو حسینیو
قبول ہوگی ہر دعا کسی سے کیوں ڈریں بھلا
ہمارا واسطہ حسین ہے ‘ کیا حسین ہے

سرور گوہر ہنر ہوا یہ خواب دیکھ کر
سجے ہوۓ ہیں خلد میں تمام مومنوں کے گھر
نشاں غم ہے جلوہ گر ہر آدمی کے سینے پر
ہر ایک لب پہ یاحسین ہے ‘ کیا حسین ہے

نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے
نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے

SHARE

LEAVE A REPLY