ایران کی فوج ‘پاسدرانِ انقلاب’ کے جنرل قاسم سلیمانی

0
1379

سلیمانی 11 مارچ 1957 کو ایرانی صوبہ کرمان میں پیدا ہوئے تھے۔ کسان گھرانے میں آنکھ کھولنے والے سلیمانی کرمان شہر میں مزدوری بھی کرتے رہے۔ بعدازاں وہ کرمان واٹر آرگنائزیشن میں کانٹریکٹر رہے۔

اس دوران وہ مقامی جم میں ویٹ لفٹنگ کرتے تھے۔ اس عرصے کے دوران ان کی دلچسپی کا ایک اور مرکز ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے خطبات تھے۔

فوجی کیریئر
قاسم سلیمانی نے 1979 میں انقلابِ ایران کے بعد پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ابتدائی طور پر وہ شمالی مغربی ایران میں تعینات رہے۔ اس دوران انہوں نے ایران کے شمالی علاقوں میں کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔

اسی کی دہائی میں ہونے والی ایران، عراق جنگ کے دوران انہوں نے کم عمری میں 41 ویں ڈویژن کی کمانڈ کی۔ اس کے بعد انہوں نے بہت جلد پاسدرانِ انقلاب میں اپنی جگہ بنائی اور عراق کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایران کے کئی علاقے بازیاب کرائے۔

وہ نومبر 2015 میں شام میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران زخمی بھی ہوئے جبکہ عراق میں مختلف فوجی کارروائیوں کا حصہ رہے۔ وہ صدام حسین مخالف عراقی شیعہ کردش ملیشیا اور بدر آرگنائزیشن کی حمایت بھی کرتے رہے۔

بعد ازاں سلیمانی نے 1990 کی دہائی میں افغانستان کی سرحد سے منسلک صوبہ کرمان میں پاسدرانِ انقلاب کی کمانڈ کی۔ وہ اس علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی متحرک رہے۔

ایران میں 1999 میں ہونے والی طلبہ کی بغاوت کے دوران میجر جنرل قاسم سلیمانی ان فوجی افسران میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے اس وقت کے صدر محمد خاتمی کو خط لکھا تھا کہ اس بغاوت کو کچلا جائے ورنہ پاسدرانِ انقلاب خاتمی حکومت کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔

قاسم سلیمانی کو 1998 میں پاسدران انقلاب کی قدس فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔

نائن الیون حملوں حملوں کے بعد شروع ہونے والی افغان جنگ کے دوران جنرل سلیمانی نے طالبان کے ٹھکانوں کی نشان دہی میں امریکہ کی مدد بھی کی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے سینئر افسر ریان سی کروکر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے نائن الیون حملوں کے بعد جنیوا میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جنہیں قاسم سلیمانی نے بریف کیا تھا۔

ریان سی کروکر نے اعتراف کیا تھا کہ قاسم سلیمانی کی معلومات پر امریکہ نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔

جنوری 2011 میں ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی اور انہیں زندہ شہید قرار دیا۔

قاسم سلیمانی کو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی حکمتِ عملی کے حوالے سے ایران کا سب سے طاقت ور رہنما سمجھا جاتا تھا۔ انہیں مشرقِ وسطیٰ میں کے مختلف عرب ملکوں میں سرگرم شیعہ تنظیموں کی معاونت اور ان ملکوں میں ایرانی مفادات کے تحفظ کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔

امریکہ نے اپریل 2019 میں ایران کی پاسدرانِ انقلاب کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ اس اقدام کے ردِ عمل میں جنرل قاسم سلیمانی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات مکمل سرنڈر کے مترادف ہو گا۔

جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بارے میں ماضی میں متعدد بار اطلاعات سامنے آئیں تھیں جس میں 2006 میں ایران کے شمالی مغربی علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد ان کا نام آیا اور اس کے بعد 2012 میں دمشق میں ہونے والے بم حملے کے بارے میں خبریں آئیں کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کے فوجی افسران کے ساتھ اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

2015 نومبر میں ایسی افواہیں بھی سامنے آئیں تھیں کہ وہ حلب میں شامی شہر میں شامی صدر کی شامی فورسز کے ساتھ کارروائیوں کے دوران مارے گئے یا شدید زخمی ہو گئے۔

دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جنرل اسماعیل غنی کو پاسدارانِ انقلاب کے اہم حصے قدس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے نائب تھے۔

کم گو اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے میجر جنرل قاسم سلیمانی ایران کے قدامت پسند حلقوں میں خاصے مقبول تھے۔ لیکن لبرل ایرانی حلقے اور ایرانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد ان کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے ان سے خائف تھی اور اُنہیں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ایران کو سفارتی محاذ پر درپیش مسائل کا بڑا ذمہ دار سمجھتی تھی۔

قاسم سلیمانی کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2018 میں دی گئی دھمکی بھی بہت مقبول ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ ہم آپ کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اتنا قریب کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جنگ شروع صدر ٹرمپ کریں گے لیکن اس کا اختتام ہم کریں گے۔۔

ایران کی فوج ‘پاسدرانِ انقلاب’ کے جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں جنوری ۲۰۲۰ میں امریکی میزائل نے شہید کیا

SHARE

LEAVE A REPLY