اشرف غنی نے کابل چھوڑنے سے قبل کی پوری کہانی بیان کی

0
428

سابق افغان صدر اشرف غنی نے کابل چھوڑنےکی کہانی بیان کردی اور کہا کہ میں مجبوری میں افغانستان سے گیا ہوں۔

اشرف غنی جو کابل سے تاجکستان کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم اب متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔

انہوں نے اتوار کو کابل چھوڑنے سے قبل کی پوری کہانی بیان کی اور کہا کہ میں مجبوری میں افغانستان سے گیا ہوں۔ دشمن کابل آکر مجھے ایک سے دوسرے کمرے میں تلاش کررہےتھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم سے پہلے بھی بہت سے لیڈر افغانستان سے گئے، پھر واپس آئے، میں نے مجبوری میں کابل چھوڑا۔

اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ میری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ کتاب ہے، چاہتا تھا کابل میں خونریزی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ پرامید ہوں کہ ناامیدی و مایوسی کی یہ راتیں جلد ختم ہوجائیں گی، افغانستان ایک بار پھر آزاد اور ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔

سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ حکومت سازی سے متعلق کام میں مصروف تھا، دوپہر میں اچانک میرے سیکیورٹی اہلکار آئے اور مجھے وہاں سے نکالا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے کابل میں داخل نہ ہونے کا کہا تھا، جب میں نے صدارتی محل چھوڑا وہ محل کے دروازوں کے قریب تھے۔

اشرف غنی نے کہا کہ مجھے مجبوراً افغانستان سے نکالا گیا تاکہ خونریزی نہ ہوجائے، میں اپنے عوام کے ساتھ ہوں، خون بہانہ نہیں چاہتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ آپ کو سب کو معلوم ہے کہ میں عزت کے ساتھ مرنے سے نہیں ڈرتا ہوں۔

……………………………………….

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑ کر جانے والے صدر اشرف غنی متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ‘وزارت خارجہ تصدیق کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے صدر اشرف غنی اور ان کے خاندان کا انسانی بنیادوں پر ملک میں خیرمقدم کیا ہے’۔

خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اشرف غنی کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

اشرف غنی کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے مطالبہ
طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو گرفتار کرلیا جائے۔

ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو سرکاری خزانہ لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے تاکہ فنڈ افغانستان کو واپس مل سکیں’۔

تاجکستان میں افغانستان کے سفیر محمد ظاہر اغبار نے کہا کہ ‘آئین کے مطابق صدر کی غیرحاضری، ملک چھوڑ جانے یا موت کی صورت میں سینئر نائب صدر نگران بن جاتا ہے اور اس وقت امراللہ صالح سرکاری طور پر قائم مقام صدر ہیں’۔

خیال رہے کہ 16 اگست کو افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کے قریبی ساتھی ملک چھوڑ کر باہر چلے گئے تھے اور ان کے مقام کا تعین نہیں کیا جاسکا تھا جبکہ طالبان قیادت نے اپنے جنگجوؤں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اشرف غنی تاجکستان چلے گئے ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے آن لائن ویڈیو بیان میں اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘وہ مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ ان سے پوچھے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی مشکل وقت میں ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں، جس پر انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

افغانستان چھوڑ کر جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں اشرف غنی نے طالبان سے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ‘خون ریزی سے بچنے’ کے لیے ملک چھوڑ گئے ہیں کیونکہ طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں رک جاتے تو یقین تھا کہ ‘بے شمار محب وطن شہپد ہوتے اور کابل شہر تباہ ہوجاتا’۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘طالبان جیت چکے ہیں اور اب وہ اپنے ہم وطنوں کی عزت، املاک اور سلامتی کے ذمہ دار ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ اب ایک نئے تاریخی امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، کیا وہ اپنے نام اور افغانستان کی عزت محفوظ کریں گے یا پھر وہ دیگر جگہوں اور نیٹ ورکس کو ترجیح دیں گے’۔

اشرف غنی نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کون سے ملک چلے گئے ہیں لیکن افغانستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ طلوع نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ تاجکستان جا چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY