قلب پاکستان سے درود و سلام دُنیاتک :سیدعارف معین بلے

0
1837

بینک قائم ہوگیا ہے،اب درود پاک کا۔ جتنا ڈیپازٹ کراﺅ، اتنا کم ہے
مو منو
شرح منافع کی کوئی اتنی دے سکتا نہیں۔یہ ڈیپازٹ کنجی ءباب اِرم
ہے مومنو
قلب پاکستان سے درود و سلام دُنیاتک
نظم نگار:سیدعارف معین بلے
[بہاولپور کی ایک سماجی شخصیت مسعود صابر نے چند برس پہلے
درود بینک قائم کیا، اورمحبان رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو
ترغیب دی کہ وہ زیادہ سے زیادہ درودوسلام کانذرانہ پیش کریں اور
جتنا بھی درودوسلام کانذرانہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم میں پیش کرتے ہیں،اس کی تعداد سےمجھے آگاہ کردیا کریں، یہ
سلسلہ زورشور سے جاری رہا اور اب بھی ہے۔اس درود بینک
کوپہلے قلب پاکستان کانام دیا گیا،جیسے دل کی دھڑکنوں کی گنتی
ممکن نہیں، ایسے ہی یہ نہیں بتایا جاسکتاکہ اب تک درودبینک میں
اکائونٹ ہولڈرزکتنی تعداد میں درود و سلام کانذرانہ پیش کرچکے
ہیں۔یہ تعداد صبح و شام بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور ربیع الاول
کامہینہ آتے ہی وردوظیفے کاعمل تیز ترہوجاتاہے ۔اب قلب پاکستان
کو درودوسلام دُنیا کانام دےدیاگیا ہے۔مسعود صابر کے رفیق کار
سید فیصل معین نے تصدیق کی ہے کہ ایک محتاط اندازے کےمطابق
اب تک ایک کھرب سے زیادہ بار درودو سلام کانذرانہ بارگاہ رسالت
مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پیش کیا جاچکاہے ۔اس کاوش میں
بچے، بڑے ، بوڑھے،جوان ،خواتین،علمائے دین، اساتذہ، تلامذہ

،کسان، وکلاء ،تاجر حضرات سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے افراد
نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سعادتیں سمیٹی ہیں ۔مسعودصابرنے جو
دِیا  وسیب میں روشن کیا تھا، اُس دئیے سے بہت سے دئیے روشن
ہوئے ہیں اور وطن عزیز کےشہر شہر میں اس کی روشنی پھیل رہی
ہے ۔معروف اور قادرالکلام شاعرسید عارف معین بلے نےنبیء رحمت
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر معمولی محبت اور والہانہ عقیدت کے
باعث درودبینک کےقیام سے لے کر  درودوسلام دنیا تک کےسفر
کومستحسن قدم قراردیااور اس کوشش کی تحسین و آفرین کیلئے یہ نظم
لکھی ہے ،جسے عالمی اخبار کی زینت بنایاجارہا ہے۔ درودوسلام دنیا
کی سیر کیجئے ،آپ کو محبان رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کے ساتھ ساتھ قلب پاکستان کی دھڑکنیں بھی سنائی دیں گی۔ ملاحظہ
فرمائیے سید عارف معین بلے کی خوبصورت نظم اور اسے پڑھنے
سے پہلے درودو سلام کانذرانہ نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

کے حضور ضرور پیش کردیں ]

{ ادارہ }
قلب پاکستان سے درود و سلام دُنیاتک
نظم نگار:سیدعارف معین بلے
قلب پاکستان ہے اِک قافلہ سالار کا
کا یہ ہے اک روحانی کنبہ سید الابرارﷺ
بھیج کر سرکارِ دوعالمﷺ پہ روزو شب درود
کرلیا سامان ہم نے قبر میں دیدار کا

تخم بویا تھا کبھی مسعود صابر نے حضورﷺ
کونپلیں پھوٹیں تو ان سے بن گیا ہے اِک شجر
آکے بیٹھا جو کوئی بھی اس شجر سائے تلے
مرحبا اس نے سمیٹے اپنے دامن میں ثمر

مسلکوں سے بالا ہو کر سب کو یکجا کردیا
سب محّبان رسالت ﷺکو اکٹھا کردیا
اللہ اللہ،برکتیں ہیں یہ رسول ﷺپاک کی
اتحاد المسلمیں کا خواب پورا کر دیا

بینک قائم ہوگیا ہے،اب درود پاک کا
جتنا ڈیپازٹ کراﺅ، اتنا کم ہے مو منو
شرح منافع کی کوئی اتنی دے سکتا نہیں
یہ ڈیپازٹ کنجی ءباب اِرم ہے مومنو

جو بھی کھلواتا ہے کھاتہ، ہے یقیناً کامیاب

ہاں، خسارے کاتصور ہی نہیں،اس میں جناب
ہم تسلسل سے اگر جاری رکھیں یہ کاروبار
ہے منافع ہی منافع اس میں بے حد و حساب

اس نگر میں کوئی بھی تواب شیعہ سنّی نہیں
سب کے سب ہیں پیروکاران امام المرسلیں ﷺ
چل رہے ہیں ایک رستے پر محبان ِ رسول
سوچئے تو آسماں سے کم نہیں ہے یہ زمیں

کوئی کالا ہے نہ گورا،سب کی اِک پہچان ہے
قافلہ یہ میرے آقا کا عظیم الشان ہے
دھڑکنوں میں گونج اُٹھی ہے درودوں کی صدا
قلب پاکستان ہے،یہ قلب پاکستان ہے

دم بہ دم ہے زمزمہ خوانی درود پاک کی
ہر کسی کے لب پہ ہے مدحت شہ لولاک ﷺ کی
یہ خدا کاہے وظیفہ،ہم نے اپنایا جسے

یوں میسر ہے ہمیں بھی روشنی افلاک کی

یہ ہے تعظیم رسالت سرور ﷺ دنیا و دیں
نام لے کر آپ ﷺ کو رب نے پکارا ہی نہیں
ہاں!دئیے ہیں آپ کی دلکش اداﺅں کوبھی نام
آنکھیں کھل جاتی ہیں،پڑھ کردیکھو قرآن مبیں

مرحبا ! صل علیٰ اے صاحب خلق عظیم
آپ ﷺکی عظمت کے کیا کہنے روف و یا رحیم
آپ ﷺ ہیں فرزند اسماعیل بھی بوالابراہیم
لائے ہیں قرآن ، سرتا پا ہیں قرآن حکیم

رب نے لکھے ہیں قصیدے ،جو نبی ﷺ کی شان میں
سچ تو یہ ہے،وہ سبھی محفوظ ہیں قرآن میں
جو خد ا پڑھتا ہے نعتیں ، ان کو کہتے ہیں درود

یہ درود پاک ہیں ، اللہ کے دیوان میں

عید میلاد النبی ﷺکی آ گئی ہے چاند رات
بستی بستی جھلملا اٹھے در و دیوا ر و بام
گونج اٹھی دو جہانوں میں درودوں کی صدا
الصلواة و والسلام و الصلواة و والسلام

منبع عشق رسالت ﷺشاعرِ مشرق کی سوچ
بخشی ہے دل کو جلا اقبال کے افکار نے
قلب مومن میں جگایا ہے نبی ﷺ کے پیار کو
مصطفی ﷺکے عشق میں ڈوبے ہوئے اشعار نے

بخشا ہے ہم کو شعور بندگی نے یہ شعار
ورد ہے اِس کا بہ اذن رحمت پروردگار
روح کو بالیدگی اِس سے ملی، دل کو قرار
اِس عمل کی برکتوں کا ہو نہیں سکتا شمار

جان، مال،اولاد سے بڑھ کر محبت کیجئے
ہے محبت دل میں تو ان کی اطاعت کیجئے
جس سے بھی روکا گیاہے،دفعتاً رُک جائیے
کرنے کو جو کچھ ہمیں کہتی ہےسیرت ، کیجئے

ہم تھے جو بھولے ہوئے،وہ راستہ دکھلا دیا
مرحبا،ہر مسئلے کا حل ہمیں بتلا دیا
دیدہءیعقوب کو بینائی واپس مل گئی
یوسف گُم گشتہ سے مسعود نے ملوادیا

منہمک ہیں مرحبا ،طفل و زن و پیرو جواں
ہیں بہت سے عالم دیں بھی شریک کارواں
مرحبا ، صلّ علی ، صلّ علیٰ ، صلّ علی
گونج اُٹھی ہیں فضائیں از زمیں تا آسماں

مرحبا صلّ علیٰ کا ورد ہے اب صبح و شام
بھیج کر اپنے رسولﷺ پاک پرپیہم سلام
ہو رہے ہیں رب عزو جل سے بے شک ہمکلام

بس یہی تو کام آتا ہے، یہی آئے گا کام

ہو نہیں سکتی تلاوت نعت خوانی کے بغیر
جا بجا آیات ملتی ہیں نبی ﷺکی شان میں
آئینہ در آئینہ ہے نور ختم المرسلیں ﷺ
اللہ اللہ جھلکیاں سیرت کی ہیں قرآن میں

آپ ﷺکی رحمت کے سائے میں ہے بزم ہست و بود
زندہ و تابندہ و جاوید ہے ان کا وجود
یہ حیات سرور ﷺکون و مکاں کا ہے ثبوت
ہم پڑھیں تو سنتے ہیں خود شاہ دو عالم ﷺدرود

کھولے ہی تھے لب درود پاک پڑھنے کے لئے
ہوگئے مصروف دونوں ہی کراماً کاتبین
اک گناہوں کو مٹانے میں ہے مصروف عمل
لکھ رہا ہے دوسرا نیکی پہ نیکی بالیقین

نکلے تھے جنت سے ہم،پھرہم کو جنت چاہیے
جو نہایت مہرباں ہے، اس کی رحمت چاہیے
توبہ آدم کی ہوئی تھی،جس کے صدقے میں قبول
مغفرت کافی نہیں، اُن ﷺ کی شفاعت چاہئیے

رحمة للعالمیںﷺ کی ہم کو رحمت چاہیے
آخرت میں بھی ہمیں گر اُن کی قربت چاہیے
کیجئے اُن کی اطاعت،پڑھئے روز و شب درود
شافع روز جزا ﷺکی گر شفاعت چاہیے

سُن لو گوش ہوش سے کہنی ہے بس اتنی سی بات
بڑھ رہی ہیں رات دن خیرالامم کی مشکلات
اسوہ ء کامل بنالو، اپنا دستور حیات
بس اسی صورت میں مل سکتی ہے ہم سب کو نجات
قلب پاکستان سےدرودوسلام دُنیاتک
نظم نگار:سیدعارف معین بلے

SHARE

LEAVE A REPLY