داعش کے خلاف کارروائیوں میں تیزی، کیا شدت پسند تنظیم پاکستان میں منظم ہو رہی ہے؟

0
462

پاکستان کے صوبۂ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کار اس اضافے کی بڑی وجہ افغانستان کی صورتِ حال کو قرار دے رہے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی پولیس نے پیر کو کراچی سے داعش سے تعلق کے شبہے میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اُنہیں افغانستان میں تربیت دی گئی اور وہ ماضی میں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد قندھار سمیت مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے بلوچ علیحدگی پسند گروپ اور داعش کے سرکردہ افراد پاکستان واپس آ گئے ہیں اور ان لوگوں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ روز ہونے والی ایک کارروائی کے دوران داعش بلوچستان کا مقامی امیر ممتاز عرف پہلوان ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے چند روز قبل ایک ہی حملے میں داعش سے تعلق رکھنے والے 11 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی بلوچستان میں داعش کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو میں پاکستان کو درپیش خطرات میں داعش، بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں اور کالعدم تحریکِ طالبان کی نشاندہی کی تھی۔

بلوچستان حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اگست میں دہشت گردی کے 41 واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ 16 حملے مکران ڈویژن میں ہوئے۔

بلوچستان میں فورسز میں سب سے زیادہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف 14 حملے کیے گئے جب کہ عام شہریوں پر 20 حملے ہوئے۔ چینی شہریوں اور پاکستان فوج کے خلاف ایک ایک حملہ کیا گیا۔

بلوچستان میں رواں برس اب تک دہشت گردی کے واقعات میں 25 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 40 سے زائد ہے۔

پانچ ستمبر کو کوئٹہ مستونگ قومی شاہراہ پر فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ کے قریب خود کش حملے کے نتیجے میں چار اہل کار ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمے داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY