ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
منڈی بہاء الدین
آں وارث ِدین ِنبی،مشکل کشا شیرخدا
حُرّوْں کے روحانی پیشواپیر پگاڑا ثالث سیدحِزْبُ اللّٰہْ شاہْ رَاشْدِيْ بارگاہ ِشاہ ِولایت میں
بابُ الإسْلام سندھ کی تاریخ علوم وفنون سے لبریز ہے۔ہر دور میں سندھ کی ثقافتی اقدار کی آبیاری کرتے اولیاء اللہ کی صوفیانہ شاعری اور افکار کا ترنم سامعین کی فکر ونظر کو جلا بخشتا ہے جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی،سچل سرمست اور لعل شہبازقلندر کا نمایاں کردار قرطاس ِتاریخ پہ نمایاں ہے۔سندھ کی زرخیز و مردم خیز سرزمین میں پیر محمد راشد (۱۱۷۰تا۱۲۳۳ھ؛ آپ کے وصال کے بعد آپ کی وراثت دوبیٹوں میں تقسیم ہوئی۔سید صبغت اللہ شاہ راشدی کوپگڑی، دستار دی گئی جس کے بعد وہ پیرپاگاڑاپگڑی والے پیر یا صاحب ِ دستار معروف ہوئے اور جھنڈا سید محمد یاسین شاہ راشدی کو دیا گیا جن کی نسل جھنڈے والے پیر یاصاحب ِعلم کہلاتی ہے۔ان کے عقیدت مند حضرت حُرْ شہید ِکربلا کی متابعت میں خود کو حر قرار دیتے ہیں اور پیر کے فرمان پر جان قربان کردینے کا عزم رکھتے ہیں۔سامراج کے مدمقابل وطن پرستوں نے خود کو حر،آزادقراردیا جو آج بھی محب ِ وطن پاکستانی ’وطن یا کفن‘ کا نعرہ لگاتے افواج ِپاکستان کا اہم حصہ ہیں۔) اور ان کے متبعین وسجادہ نشین حضرات میں علم وعمل اور فضل وشرف کا شہرہ رہا ہے جس میں بعدازاں مسند نشیں جانشینوں نے اپنے اپنے ادوار میں اپنے افکار وخیالات سے خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
ثالث پیر پگاڑا جناب سید حزب اللہ شاہ راشدی (۱۴شوال۱۲۵۸ تا۴محرم ۱۳۰۸ھ)خیر پور سندھ پیر جوگوٹھ میں متولد ہوئے۔آپ کے والد سید علی گوہر شاہ بتیس سال کی عمر میں واصل بحق ہوئے تو اس وقت سید حزب اللہ شاہ حیات ِدنیا کے پانچویں برس میں تھے۔ جانگداز صدمے اور والد کا سایہ اٹھ جانے کے باوجود آپ نے علوم ِظاہری وطریق ِباطن کے معمولات کو متاثر نہ ہونے دیا۔علوم وفنون،تفسیر وحدیث،فقہ وتصوف،علوم متداولہ میں معاصرین نے یگانہ قرار دیا۔ بظاہر شاہانہ مزاج لیکن بہ باطن فقیر منش تھے؛
در مجلس ِملوکاں چہ بود گذر گدارا رازے نہ فاش گوید ہر غنچہ ئصبا را
افسردہ ام نگارا!در آتش ِفراقت رحمے بحال ِمسکیں ؔاے شوخ ِمن خدارا دیوان ِمسکین ؔصفحہ ۷۲
علماء وفضلاء،مشائخ واشراف کی وہ قدر دانی کی کہ بقول پیر حسام الدین راشدی پیر جو گوٹھ میں بغداد کی علمی اقدار کاعہد ِ زرّیں تازہ ہوگیا۔آپ علماء و شعراء کی قدر کرتے اور بیش قیمت لباس اور سونے کی کشیدہ کاری سے مرصع دستار ہدیہ کرتے؛
بر سر طاق ِفلک خلوت ِدرویشاں است پایہ ء عرش ِبریں ہمت ِدرویشاں است
چوں گدا باش تو مسکیں ؔبدرِپیر مغاں ہر چہ خواہی تو کنی خدمت ِدرویشاں است دیوان ِمسکین ؔصفحہ ۱۰۷
ایک مقام پہ فرماتے ہیں؛
بہتر از طاق ِفلک خلوت ِدرویشاں است برتر از عرش ِبریں ہمت ِدرویشاں است
شہریاران ِجہاں اند ازیشان ِبہ مرام ازکراں تا بیکراں دولت ِدرویشاں است
من براں چشم نظر داشتم ومی بینم رتبہ افزائے جناں خدمت ِدرویشاں است
چوں گدا باش تو مسکین ؔبہ در ِپیر مغاں زانکہ سلطانی ئدل خدمت ِدرویشاں است دیوان ِمسکین ؔصفحہ ۱۲۲
پیر سید حزب اللہ شاہ صاحب راشدی تاعمر خدمت ِدین ِمتین،امر بالمعروف،احیائے سنت و رشد وہدایت میں مشغول رہے۔علالت کے باوجود طویل سفر کیے اور کتب بینی، تصنیف و تالیف سے متعلق معمولات ومشاغل میں فرق نہ آنے دیا۔شرح اسمائے حسنیٰ،مکاتیب ِگرامی اورچارہزار صفحات پہ مشتمل مؤقر لغت آپ کے تبحر علمی کا عکس ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ’کتاب عبادت ہے‘، ’کتاب وسیلہ ء فیض وبرکت ہے‘چنانچہ گرانقدر کتب خریدتے اور ان کی تحفیظ واشاعت کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ کے افکار میں دین کا درد موجزن ہے جوحافظ وجامی کے اسلوب میں مترشح ہے۔آپ شاعری میں مسکین تخلص کرتے تھے۔فرماتے ہیں؛
بہر درگہ کہ میرفتم ہمہ درہائے بربستند بیاتا حالیا خود را بساقی ِکوثر اندازیم دیوان ِمسکین صفحہ ۱۰
چار سو صفحات پہ مشتمل دیوان ِمسکین ؔمیں ہجر وفراق،وصال وجمال،حسن وعشق،استغاثہ حقیقت ومجاز، مدح و مناجات، سوز ودرد،امر بالمعروف ونہی عن المنکر، اعلائے کلمہء حق، پرواز ِتخیل ومنظر نگاری،جذب ِدروں وغم ِجاناں کے موضوعات منقش ہیں؛
دلبر ما کہ برسر جنگ است رخش آئینہ ودلش سنگ است
زلف ِپیچیدہ برتن ِسیمیں صندلے افعی سیہ رنگ است
سالہا شد کہ طے نمے گردد راہ ِعشقش نہ یک دوفرسنگ است
روزگار ِدورنگ اے مسکین ؔ گاہے بر صلح گاہے برجنگ است دیوان ِمسکین ؔصفحہ ۱۰۹
اسی طرح؛
عجائب سلسلہ زلفش مسلسل دار مے باشد کہ ہر یک تار مشکیشنش چومارے کردہ ام پیدا
برائے آں مہ ظلمت زُدا پیر خراباتم درایں عین الیقین ِخود خمارے کردہ ام پیدا
ولی او را خدا خواندہ دشیر خویش فرمودہ فَتٰی در شان او چابک سوار ے کردہ ام پیدا
بہر دم بلبل ِمسکین ؔرخ ِگل را کند سجدہ ہمے گوید کہ شاہ ِتاجدارے کردہ ام پیدا دیوان ِمسکین ؔصفحہ۶۹
وَھُوَ الْصَّفِيْ ألْمُقْتَدیٰ، مالشکر واُوپیشوا
شیر خدا مولا علی، مشکل کشا حاجت روا
آں ابن ِعم مصطفٰی جاں کرد بہر ِحق فدا
پائے زدہ ناسوت را،طے ساختہ جبروت را
یک شب گذر ملکوت را،لاہوت را فرمود جا
آں صفدر وحیدر علی،آں مالکِ قنبر علی
بازوئے پیغمبر علی،مولیٰ بقولِ قُلْ کَفٰی
ازچاریاراں چارمیں،از پنجتن اُوپنجمیں
از دہ مبشردہمیں،اثنا عشر را مقتدا
کونین کم از عظمتش،ثابت بقرآں حرمتش
مقبول ِایزد محنتش کرد آنچہ بے ردے ریا
مداح ذات ِاُو ملک،کمتر زقدر ِاُو فلک
زاہل ِسما وازسمک گویا بہ وصفش شعرہا
دامادِ دلدار ِنبی،سالار ِمختار ِنبی
آں چار میں یار ِنبی حاکم بہ اَقطاع ِہدیٰ
وَھُوَالْعَلِيْ ألْمُرْتضٰیٰ وَھُوَ الْوَفِيْ الْمُجْتبٰی
وَھُوَ الْصَّفِيْ ألْمُقْتَدیٰ، مالشکر واُوپیشوا
باذوالفقار ِجاں ربابنہد چودر میدان ِپا
قَدْ قَدَّا إذْ ھُوَ إعْتلا، قَدْ قَدَّا إذْ ھُوَ إعْتَرا
آں دافع ِرنج وعلل،مفتی ئشر ع ِہر ملل
از ضرب تیغ ِاُوقَلل جملہ ھدر گشتہ ھبا
آں رہبر ملت نما،آں حیدر ِمشکل کشا
مخطوب لفظ ِ إنَّما، مدعو خطابِ ھَلْ أتیٰ
وَھُوَالْتَّقِيْ وَھُوَالْنَّقِيْ، مَقْتُوْلِ مِنْ یَدِّ الْشِّقیٰ
بردوش ِاحمد مرتقٰی،سالار ِاحزاب خدا
شاہے کہ از حکم ِخدا باصارم ِکشور کشا
روئے زمیں کردہ صفا از مشرکان ِاشقیا
آں مخزن ِگنج وگوہر،بخشندۂ لعل ودرر
آں فخر دیں نیکو سیر،آں فاخر ِدین ِخدا
آں خنجر رخشان ِاُو،آں تیغ نارافشان ِاُو
ونعرۂ چوشان ِاُو افگند غوغا در سما
شد لاَفتیٰ إلاّعَلِيْ،در شان ِآں شاہ ِجلی
آں وارث ِدین ِنبی،مشکل کشا شیرخدا
از ہیبت ِہنگام ِاُو،شیر فلک شد رام اُو
افگند سر در دام ِاُو،چوں گربہ ئبیدست وپا
دانندۂ علم وہنر،شاہنشہ ء نیکو سیر
بینندۂ حکم ِقدر،دانائے راز ِکبریا
وَھُوَالْعَلِيْ وَھُوَالْوَلِيْ،اوصاف ِاُو قد ینجلی
وَھُوَ الْوَفِِيْ ألْمُتَّقِيْ،برحق إمامُ الْأتْقِیاء
مسکیں ؔبِحَجِّ آخریں،آں خیر ختم المرسلیں
از حکم ِرب العالمیں،کردش بجا خود متکا
زَوْ جِ الْبَتُوْلِ الْفاطِمَۃْ،سردار ِقوم ِقاطمہ
از لہب ِنار ِحاطمہ،برہانداد روز ِجزا دیوان ِمسکین صفحہ ۳۹۸ تا ۴۰۰
حضرت محمد مصطفٰی کے تایازادبھائی اور خدا تعالیٰ کے شیر مولاعلی مشکل کشا سائلین کے حاجت روا ہیں جنہوں نے حق کے راستے میں خود کو فدا کردیا۔عالم ِناسو ت آپ کے زیر پاہے اور آپ نے عالم ِجبروت کی سیر کی ہے اور شب بھر میں عالم ِملکوت سے گزرتے عالم ِلاہوت میں قیام کیا ہے۔حیدر وصفدر علی مرتضٰی قَنْبَرْ کے آقا ہیں اور پیغمبر اسلام کے لیے باعث ِتقویت اور آیت ِ قل کفٰی (وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلاً ط قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْداً بَیْنِيْ وَ بَیْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتابْ ہ سورۃ ألْرَّعْد13:43) کے مطابق اہل ِایمان کے مولاوآقا ہیں۔چار یاروں میں چوتھے،پنجتن میں پانچویں،عشرہ مبشرہ میں شامل اور اثنا عشری عقیدہ رکھنے والے ان کی اقتدا کرتے ہیں۔ان کے جاہ وحشم کے سامنے کائنات ہیچ ہے،ان کی حرمت قرآن سے ثابت ہے اور ان کی بے لوث خدمات بارگاہ ِ ایزدی میں مقبول ہیں۔ملائک آپ کے مدح سرا ہیں،آسمان کی رفعتیں آپ کے سامنے وقعت نہیں رکھتیں،آسمان وزمین کے مکین ان کے اوصاف بیان کرنے میں رطب اللساں ہیں۔نبی اللہ کے محبوب داماد،سپہ سالار،چاریاروں میں برگزیدہ، قطعات ِارض میں ہدایت پانے والوں کے فرمانروا ہیں۔ہم ان کی جانباز سپہ ہیں اور وہ پاک وپاکیزہ بلندی والے،منزہ وفا کے حامل پرخلوص قائد ہیں۔وہ ذوالفقار ِمردم شکار سے میدان ِ ِجنگ میں دشمنان ِدین کو زیر وزبر کر تے (بلندکو پست اور پست کو بلندکرڈالتے تھے۔) متکبرین کو چیر کر رکھ دیتے تھے۔ وہ رنج ومرض دور فرمانے والے،(جملہ انبیاء کی تعلیمات پہ عمل پیرا) ملتوں کے فقہی احکام پہ یکساں دسترس رکھنے والے مفتیء حق ہیں اور آپ کی تلوار سے باطل کے مضبوط قلعے ھَباءٍ مَنْثُوْراً (گردوغبار کی طرح اڑتے) نظر آتے ہیں۔ ملت ِاسلام کے رہبر،حق کی راہ دکھلانے والے اور امت ِمحمدیہ کی مشکلات دور کرنے والے رہنماہیں جنہیں آیت ِتطہیر میں منزہ انداز میں مخاطب کیا گیا ہے اور(سورۃ دہرمیں) شاہ ِ ہَلْ أتیٰ سے سرفراز کیا گیا ہے۔پر از اخلاص صاحب ِتقویٰ،اشقیاء کے ہاتھوں شہادت پانے والے،احمد ِمجتبیٰ کے کاندھوں پہ رفعتوں کو چھونے والے،اللہ والوں کے رہبر و رہنما ہیں۔خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی عالمگیر فاتح تلوار کے ساتھ روئے زمین سے مشرک اشقیاء کا صفایاکرنے والے ہیں۔وہ لعل وگہر عطافرمانے والے، انمول موتیوں کا خزینہ ہیں،دین ِحق کے لیے فخر کا باعث ہیں اور آپ پر خدا تعالیٰ کا دین فخر کرتا ہے۔ان کے چمک دارخنجر اور سپرد ِسقر کردینے والی تلوار کے باعث ان کی فضیلت کے نعرے آسمانوں پہ گونجتے ہیں۔ جلیل القدر سردار کی فضیلت میں لا فَتیٰ إلاّ عَلي کانقارہ بجااور وہ نبی اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والے، مشکلات کی گرہیں کھولنے والے خدا تعالیٰ کے شیر ہیں۔ میدان ِکارزار میں ان کی ہیبت کے باعث فلک شگاف سورما بھیگی بلی کی طرح ان کے قدموں پہ سر رکھ دیتے تھے۔ علم وہنر کے جاننے والے،نیک سیرت لوگوں کے قائد،قضا وقدر سے آگاہ، خدا کے رازوں سے واقف ہیں۔وہ بلند وبالا ہیں، اپنے چاہنے والوں کے خیر خواہ، ان کے اوصاف واضح اور حد ِشمار سے ماورا ہیں اور وہ بے غرض صاحب ِ تقویٰ، لاریب متقیوں کے پیشوا ہیں۔ مسکین ؔآخری حج کے موقع پر خیر خلائق،خاتم المرسلین نے رب العالمین کے حکم سے انہیں اہل ِایمان کا ملجاوماوا اوراپناجانشین قرار دیا ہے۔فاطمہ بتول کے سرتاج، دین ِحق کے لیے جانباز سرفروشوں کے قائد،بروز ِمحشر جھلسادینے والی تباہ کن آگ سے خلاصی دلانے والے ہیں۔














Really good magazine.