اللہ کے حبیب کی تلواروں کے نام

اللہ کے حبیب کی تلواروں کے نام

0
1596

 رسول اللہﷺ کے پاس کل 9 تلواریں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان نو 9 تلواروں میں سے دو 2 تلواریں آپؐ کو وراثت میں ملی تھی ،اس کے علاوہ تین 3 تلواریں رسول اکرمؐ کو مال غنیمت میں سے ملی تھی۔

العضب

عضب رسول اللہ کی ایک تلوار ہے جو آپ کو سعد بن عبادہ الانصار  نے تحفے میں دی تھی۔اور یہی وہ تلوار ہے جو آپ نے غزوہ احد میں حضرت ابودجانہ الانصاری کو عطا کی تاکہ میدان جنگ میں مخالفین کا سامنا کریں۔

الرسوب

الرسوب وہ تلوار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں کہیں پشت سے منتقل ہوتے ہوئے آپ کو مل گئی، یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وراثتی تلواروں میں سے ہے۔

المخدم

لمخدم تلوار کے حوالے سے دو مختلف رائیں سامنے آتی ہیں یعنی پہلی تو یہ کہ یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کو عطا فرمائی اور بعد میں علی بن ابی طالب کی اولاد میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی، دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تلوار حضرت علی کو شام میں ایک جنگ کے دوران مال غنیمت میں ملی تھی۔

القلعی

قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔ اس تلوار کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ وسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا عبد المطلب نے اس تلوار اور سونے کے بنائے ہوئے دو ہرنوں کو زمزم کے کنویں سے نکلوایا تھا جوقبیلہ جرہم نے یہاں پر ایک زمانہ قبل دفن کئے تھے۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داداعبدالمطلب نے اس تلوار کو دیگر قیمتی سامان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں بحفاظت رکھوا یا ۔اس تلوار کے اوپر چند الفاظ بھی لکھے گئے ہیں جن کا اردو ترجمہ یہ ہے

 یہ تلوار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھرانے کی عزت کی علامت ہے

الماثور

الماثور یا لماثور الفجر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار جو آپ کو اپنے والد صاحب سے بطور وراثت ملی تھی، ہجرت نبوی کے دوران جب آپ سفر کررہے تھے اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تلوار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس تلوار کا دستہ سونے کا بنایا گیا ہے اور دستہ دونوں اطراف سے مڑا ہوا ہے، مزید خوبصورتی کیلئے اس پر زمرد اور فیروزے جڑے ہوئے ہیں۔

الحتف

یہ تلوار بھی رسول اللہ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوہے کے سازوسامان بنانے میں خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آ رہی تھی حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر آپہنچی ۔

البتار

البتار رسول اللہ کی معروف تلوار ہے – اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے،یہ تلواربھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی ، اس کے علاوہ اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام‘ سلیمان علیہ السلام‘ ہارون علیہ السلام‘ یسع علیہ السلام‘ زکریا علیہ السلام‘ یحییٰ علیہ السلام‘ عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔ اس تلوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤد علیہ السلام کو اس وقت مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس کے علاوہ اس تلوار پر ایک تصویر سی بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤد علیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ،جالوت اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو’’ بترا‘‘ شہر کے قدیمی عرب باشندے البادیون اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ تلوار ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کا آخرت سے پہلے نزول ہوگا تو حضرت عیسٰی سی تلوار سے دجال کو قتل کردیں گے۔

الذوالفقار

ذوالفقار تلوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (غزوہ بدر) میں بطور مال غنیمت ملی تھی، یہ روایت بھی پایا جاتا ہے کہ آپ نے یہ تلوار بعد میں حضرت علی کو دی اور اسی تلوار سے حضرت علی نے بیشتر مشرکین سرداروں کو شکست دی

القضیب

تلوار کے اوپر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام مبارک بھی لکھا گیا ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار دفاع کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہوتی تھی باقی جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا استعمال نہیں کیا ہے

بشکریہ
اسلام ان اردو

SHARE

LEAVE A REPLY