عالمی خوراک پروگرام کے مطابق اگلے چھ ماہ کے دوران قحط سے دو کروڑ انسانوں کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام سے منسلک ماہر اقتصادیات عارف حسین نے کہا ہے کہ یمن، شمال مشرقی نائیجیریا اور جنوبی سوڈان میں مسلح تنازعات کے نتیجے میں اشیائے خوراک کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہو چکی ہیں اور اس صورت حال نے ہزارہا گھرانے بری طرح متاثر ہیں۔
عارف حسین نے روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ براعظم افریقہ کے مشرقی حصے میں خشک سالی مجموعی طور زراعت کے لیے شدید نقصانات کا باعث بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صومالیہ میں قحط کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ بہت جلد شروع ہو سکتا ہے اور جنوبی سوڈان میں بھی ہزاروں افراد بھوک کے ہاتھوں مارے جا سکتے ہیں۔












