سپریم کورٹ میں پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

0
228

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت مکمل ہوگئی جبکہ جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس آصف کھوسہ کے مطابق فیصلے کا کوئی شارٹ آرڈر جاری نہیں ہوگا، بلکہ تفصیلی فیصلہ ہی جاری کیا جائے گا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور 20 سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر 20 کروڑ لوگ ناخوش بھی ہوتے ہیں تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، صرف قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے قانون کے مطابق کریں گے، جس نے بھی شور مچانا ہے وہ مچاتا رہے۔

آج ہونے والی میں سماعت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے سینئر ججز پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ کے سامنے اپنے جوابی دلائل کا سلسلہ جاری رکھا۔

سماعت کے دوران ملک میں جاری امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث کمرہ عدالت میں بھی سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ نظر آیا۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے ایک بار پھر گلف سٹیل ملز کے واجبات کا نکتہ اٹھایا، جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ جو بات پہلے کر چکے ہیں اسے دہرا کر وقت ضائع نہ کریں۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی جانب سے دوران سماعت سہ فریقی معاہدہ پیش کیا گیا تھا، تاہم گلف سٹیل کے واجبات سے متعلق کوئی وضاحت نہیں دی گئی، جبکہ گلف سٹیل ملز کے واجبات 63 ملین درہم سے زیادہ تھے۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل کا نعیم بخاری کو کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی گلف سٹیل کے واجبات سے متعلق کوئی بات شامل نہیں اور ابتدائی دلائل میں انہوں نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی دستخط والی دستاویز انہوں نے تیار نہیں کی, جس پر شیخ عظمت سعید نے جواب دیا کہ آپ مریم نواز کے دستخط والی دستاویز کو درست کہتے ہیں جبکہ شریف فیملی اس دستاویز کو جعلی قرار دیتی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت میں دستخط پر اعتراض ہو تو ماہرین کی رائے لی جاتی ہے جبکہ ماہرین عدالت میں بیان دیں تو ان کی رائے کو درست تصور کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ ہمیں خصوصی یا احتساب عدالت سمجھ کر فیصلہ لینا چاہتے ہیں، متنازع دستاویز کو چهان بین کے بغیر کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت نے اپنی طبیعت کی ناسازی کا ذکر بھی کیا اور ہدایت کی آج انہیں زیادہ تنگ نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کی دستاویزات کا ایک ہی پیمانے پر جائزہ لیں گے اور دونوں فریقین کی دستاویزات ہی تصدیق شدہ ذرائع سے نہیں آئیں۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا، اور موزیک فرانزیکا کو کوئی قانونی نوٹس نہیں بھجوایا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گیلانی کیس کی طرح اس کیس میں بھی عدالت سے ڈیکلریشن مانگ رہے ہیں۔

اپنے جوابی دلائل میں نعیم بخاری نے شریف خاندان کی جانب سے بطور شواہد پیش کیے گئے قطری خطوط اور قطری سرمایہ کاری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سالہا سال تک شریف خاندان کی جانب سے کبھی قطری مراسم کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ قطری خاندان کو ایل این جی کو ٹھیکہ دینے کی خبر بھی انہوں نے اخبار میں پڑھی۔

جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ قطری ٹھیکے والی بات مفادات کے ٹکراؤ کی جانب جاتی ہے جبکہ ہمارے سامنے ایل این جی کے ٹھیکے کا معاملہ نہیں۔

نعیم بخاری کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا دنیا میں کسی نے پاناما لیکس کو چیلنج کیا جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ لندن عدالت میں آبزرویشن بیان حلفی کے بنیاد پر دی گئی۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے نے کہہ دیا کہ قرض کی رقم اس نے ادا کی لیکن اتنی بڑی رقم بینک کے علاوہ کیسے منتقل ہوئی؟

نعیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ 1980 سے 2004 تک قطری شیخ بینک کا کردار ادا کرتے رہے، اور سرمایہ کاری پر منافع اور سود بھی بنتا گیا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات پر نہ دستخط ہے اور نہ کوئی تاریخ جبکہ ادائیگی کس سال میں کی گئی وہ بھی درج نہیں، اگر عدالت غیر تصدیق شدہ دستاویزات مسترد کرنا شروع کرتی ہے تو 99.99 فیصد کاغذات فارغ ہو جائیں گے اور ہم واپس پرانی سطح پر آجائیں گے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت ٹرائل کورٹ نہیں جو یہ کام کرے، جس پر نعیم بخاری نے یوسف رضا کیس کا حوالہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں عدالت ایسا کرچکی ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ گیلانی کیس میں عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ یہ کیس بھی وزیراعظم کے ان اثاثوں کا مقدمہ ہے جو ظاہر نہیں کیے گئے۔

جسٹس اعجاز افضل نے پی ٹی آئی ثبوت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے دستاویزات کو ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ کیا ہم قانون سے بالاتر ہو کر کام کریں؟

ان کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے فیصلوں میں بہت سے قوانین وضع کر چکی ہے اور عدالت نے ہمیشہ غیر متنازع حقائق پر فیصلے سنائے ہیں۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ عدالت بنیادی حقوق کا معاملہ سن رہی ہے، اور یہ مقدمہ ٹرائل کی نوعیت کا نہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے وکیل پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ کیا وہ مفاد عامہ کے مقدمہ میں قانونی تقاضوں کو تبدیل کر دیں؟

لندن فلیٹس کی سرمایہ کاری پر بات کرتے ہوئے جسٹس اصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ قطری خط کے مطابق 8 ملین ڈالرز الثانی خاندان نے ادا کیے۔

نعیم بخاری کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ 1980 سے 1999 تک الثانی خاندان نے سرمایی کاری کے نفع کا ایک پیسہ نہیں دیا اور 1999 کے بعد سے پیسوں کی ادائیگی شروع ہوئی اور یہ لین دین بھی بینک کے ذریعے نہیں ہوئی۔

وزیر اعظم کی تقاریر پر بات کرتے ہوئے وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 5 اپریل کو قوم سے کیے گئے خطاب میں صادق اور امین نہیں تهے. نہ ہی قومی اسمبلی سے کیے گئے خطاب میں انہوں نے سچ بولا، وزیر اعظم گلف سٹیل فیکٹری کے حوالے سے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کبهی قطری فیملی سے تعلقات کا اظہار نہیں کیا اور وزیراعظم کی بیٹی لندن فلیٹس کی مالک نکلیں، اگر پاناما پیپر غلط ہے تو وزیراعظم نے انہیں نوٹس کیوں نہیں بهیجا۔

SHARE

LEAVE A REPLY