آئے بن کر روشنی جعفر ابو طالب کے گھر
ہوگئے روشن بنی ہاشم کے جن سے بام و در
لیں بلائیں آپ کی بنت اسد نے جھوم کر
جان و دل سے تھی فدا وہ پاک مادر آپ پر
خود کہا خیر البشر نے آپ کو صد مرحبا
آگئے دینے مبارک باد وہ چچا کے گھر
آپ کو بوسہ دئیے اس واسطے خیرالوری
کیوںکہ تھے وہ آپ کی عظمت سے بیشک باخبر
تھی خبر ان کو بنے گا ایک دن یہ سورما
اور قہر کبریا بن کر گرے گا روم پر
آپ بچپن ہی سے لگتے مختلف تھے باخدا
آپ کے تھی روبرو بس سیرت خیر البشر
تھی عنایت آپ پر ہر دم خدا کی مومنو
آپ کو بخشا خدا نے کل جہاں کا پاک گھر
کیوں نہ بچپن ہی سے ہوتے آپ غیروں سے جدا
تھی میسر آپ کو جب قربت خیرالبشر
ساتھ والد کے تجارت کا سفر کرنے لگے
جب جوانی میں ہوئے داخل وہ شاہ بحر و بر
جب ابو طالب کے گھر میں آ گئی کچھ مفلسی
لے گئے عباس چچا آپ کو پھر اپنے گھر
آپ چودہ سال تک گھر میں رہے عباس کے
آپ تھے رحمت خدا کی حضرت عباس پر
مصطفیٰ کو جب ملا رب سے رسالت کا شرف
بن گئے آغاز ہی سے آپ ان کے ہمسفر
ہر مصیبت پھر سہی دین خدا کے واسطے
کر دیا سب کچھ فدا خیر الوری کے نام پر
جانب حبشہ چلے بن کر نبی کے ترجماں
اس شرف میں بھی ہے ان کا نام سب سے معتبر
آپ نے کی والی حبشہ سے ایسے گفتگو
گفتگو کرتے تھے جس انداز میں خیر البشر
جس کو سن کر شاہ حبشہ خود مسلماں ہوگیا
کیا ہی ہوگا آپ کا خطبہ وہ لوگو پراثر
شاہ حبشہ کو دلائل سے متاثر کر دیا
رکھ دیا جب دین احمد اس کے آگے کھول کر
واپسی جس دم ہوئی حبشہ سے ان کی مومنو
آپ استقبال کو ان کے گئے خیر البشر
سازشیں کرنے لگے رومی جو یثرب کی طرف
پر گئیں پھر شاہ عالم کی نگاہیں آپ پر
آپ کو دے کر علم بولے حبیب کبریا
لیجیے جعفر ذرا اب رومیوں کی کچھ خبر
چل پڑے پھر آپ موتہ کی طرف تھامے علم
خالد و ابن رواحد آپ کے تھے ہمسفر
کی قیادت اس طرح کچھ لشکر اسلام کی
مرحبا کہنے لگا خالد سا مرد ذی قدر
جس طرح میدان میں لڑتے تھے حمزہ و علی
اس طرح لڑنے لگا عمران کا نور نظر
ہاتھ دونوں کٹ گئے لیکن نہیں چھوڑا علم
رومیوں کی توڑ ڈالی آپ نے تنہا کمر
یوں شہادت آپ کو بخشی خدا نے مومنو
ناز جس پر تا ابد کرتے رہے گا ہر بشر
طاہر و طیب لہو درکار تھا اسلام کو
اس لیے موتہ میں بھیجے آپ کو خیر البشر
یوں لٹا دی زندگی جعفر نے دیں پر مومنو
جس طرح حضرت خدیجہ نے لٹایا مال و زر
با ادب کہتی ہے دنیا اے بلال حق نوا
جعفر طیار کو عزم و وفا کا تا جور
بلال رشید













Jizaak Allah!! Beshak Iss Kaenaat mein Nahin ho Sakta Koee bhi Inn Ka; “Hum Palla O Hum Asar” !! …..