شامی فوج نے تاریخی قصبے تدمر کا قبضہ شدت پسند تنظیم داعش سے چھڑا کر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق شام کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ شامی فورسز تدمر کا قبضہ داعش سے چھڑانے کے لیے کارروائیاں کررہی تھیں جس میں وہ جمعرات کو کامیاب ہوگئیں۔

سیرین عرب نیوز ایجنسی  کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج تاریخی اہمیت کے حامل قصبے تدمر میں داخل ہوگئی ہیں جبکہ داعش کے جنگجو اس علاقے سے مکمل طور پر فرار ہوچکے ہیں۔

حزب اللہ کے میڈیا آؤٹ لیٹ کے بیان کے مطابق شامی فورسزکو لبنانی گروپ حزب اللہ اور روس کی فضائی حمایت بھی حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شام: تدمرمیں 42 افراد کی اجتماعی قبر دریافت
واضح رہے کہ تدمر پر کنٹرول حاصل کرنے کی یہ شامی افواج کی دوسری کوشش ہے، اس سے قبل گزشتہ برس مارچ میں شامی فورسز نے تدمر کا کنٹرول داعش سے چھڑالیا تھا لیکن صرف 10 ماہ بعد ہی داعش نے اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ شام میں 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے قبل تدمر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پر کشش ترین مقامات میں سے ایک تھا اور یہاں سالانہ لاکھوں سیاح آتے تھے۔

تدمر نیوز نیٹ ورک کے ڈائریکٹر محمد حمصی نے بتایا کہ تدمر تقریباً مکمل طور پر خالی ہے اور داعش کے جنگجو اتوار کے روز ہی یہاں سے نکل گئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY