فلسطینی بچےکے قاتل یہودی دہشت گرد کا مکان مسمار کرنے کا مطالبہ مسترد

0
311

مرکز اطلاعات فلسطین
اسرائیلی ذرایع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج کی طرف سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ ایک فلسطینی بچے کو زندہ جلا کر بے رحمی سے شہید کرنے کے مجرم اسرائیلی دہشت گرد کا مکان مسمار کرنے کا کوئی ٹھوس سبب موجود نہیں۔

اسرائیل کے عبرانی ریڈیو میں بتایا گیا ہے کہ حکام کی طرف سے اعلیٰ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ دو سال قبل بیت المقدس میں صبح کے وقت ایک فلسطینی لڑکے ابو خضیر کو تشدد اور زندہ جلا کر شہید کرنے میں ملوث یہودی دہشت گرد کامکان مسمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان کے قاتل کے جرم کی نوعیت اتنی شدید نہیں اور اس کے مکان کی مسماری کے لیے یہودی عوام میں تائید نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ یہودی دہشت گردوں نے دو سال قبل ماہ صیام میں نماز فجر کے وقت بیت المقدس میں ایک فلسطینی لڑکے ابو خضیر کو اغواء کےبعد ہولناک تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسے زندہ جلا ڈالا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے ابو خضیر کے قاتلوں کوگرفتار کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا ہے۔ ابو خضیر کے قتل کےمرکزی مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے قاتل کا مکان بھی مسمار کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم صہیونی حکام نے یہ مطالبہ بے معنی قرار دے کر اسے مسترد کردیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY