حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا،اسمبلی میں وزیر قانون زاہد حامد نے28ویں آئینی ترمیمی بل2017اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل2017 بھی پیش کیے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا تو کورم پورا نہ تھا، کورم کی نشادہی اور مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں کی بحالی کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، بل حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر زاہد حامد نے پیش کیا، بل میں فوجی عدالتوں کیلئے دو سال کی توسیع شامل ہے۔
اس موقع پر زاہد حامد کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات کیلئے جو اقدامات کیے گئے تھے، اس کی اب بھی ضرورت ہے، دہشت گردی کا جو خطرہ پہلے تھا، وہ اب بھی موجود ہے، اس لئے یہ بل پیش کیے گئے ہیں، دو سال کیلئے فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے درخواست دی گئی ہے، بل میں دہشت گردی کے حوالے سے تشریح بھی شامل ہے، جب کہ فرقہ کے حوالے سے بھی جماعتوں کا ذکر اس میں بھی شامل ہے، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مشاورتی عمل کے بعد بل پیش کیا گیا ہے، مشاورتی عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔
بل پیش ہونے پر عذرا افضل نے مطالبہ کیا کہ امتیازی قانون کو اس صورت میں قبول نہیں کرسکتے، پی پی کی تجاویز کو بل میں شامل کیا جائے۔ اسپیکر قومی اسمبلی انہیں یقین دہانی کرائی کہ بل پر اتفاق رائے کے لئے مزید مشاورت کریں گے۔ قبل ازیں کورم ٹوٹنے پر ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی معطل کی تو مسلم لیگ ن کے ارکان نے ایوان میں ہی پارٹی اجلاس کرلیا۔
خواجہ سعد رفیق اور جاوید لطیف نے دھواں دھار تقاریر کیں، جاوید لطیف نے کہا کہ جو باتیں چل رہی ہیں وہ ہوئی ہی نہیں، غدارسے متعلق جو کہا اس پر قائم ہوں، اگرشیخ مجیب اور الطاف حسین کو غدار کہتے ہیں تو عمران خان کو کیا کہیں؟
انہوں نے کہا کہ ذہن میں رکھیں، میرانام جاوید لطیف ہے، اب جو آگے بڑھے گا وہ گھر نہیں جائیگا، اگر لیڈر کی اچھی تربیت ہوتی تو کل والا واقعہ نا ہوتا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قوم جبراورتشدد کی سیاست کو مسترد کرتی ہے، کل عمران خان نے مراد سعید کی حمایت کرکے جلتی پر تیل ڈالا، ایک آدمی وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ہر کسی کی عزت اچھالتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے شر سے علماء، جنرل، ججز اورغیرملکی کھلاڑی بھی محفوظ نہیں، پھٹیچر سیاست کرنے والا اپنے کارکنوں کو کہتا ہے مخالفین پر پل پڑو











