پاکستان کی قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کا بل منظور کر لیا گیا

0
91

پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر آج 28سویں آئینی ترمیم تھی اور توقع کے مطابق  یہ ترمیم منظور کر لی گئی جس سے ملک میں فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع ہو جائے گی۔

اس موقع پر پارلیمان میں وزیر اعظم بھی موجود تھے اور اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی

حق میں 253اور مخالفت میں 4 ووٹ پڑے
ترمیمی بل وزیرقانون زاہد حامد نے ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا ،زاہد حامد کا کہنا ہے کہ بل کی شق 2 میں پانچ ترامیم پیش کی گئیں۔

گزشتہ روز پیر کو ایوان میں حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمراں اتحاد میں شامل دو سیاسی جماعتوں، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جعمیت علماء اسلام (ف)، نے ایک مرتبہ پھر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا

گزشتہ روزقومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع سے متعلق 28 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایكٹ میں ترامیم پیش كردی گئیں۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے 28 ویں آئینی ترمیم كا بل ایوان میں پیش كیا۔ ترامیم كے تحت فوجی عدالتوں پر قانونی شہادت كا اطلاق ہوگا، تنقید اور ٹرائل كا طریقہ كار تبدیل ہو گا، باقاعدہ طور پر پیشگی اخراجات سے آگاہ كیا جائے گا۔ بل کے تحت ہائی كورٹ میں اپیل كا حق اور ملزمان كو مرضی كے وكیل كرنے كا اختیار ہو گا، فوجی عدالتوں اور داخلی قومی سلامتی كے معاملات کے لیے نگران پارلیمانی قومی سلامتی كمیٹی قائم ہو گی۔

بل پر بحث كا آغاز كرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی كے سربراہ محمود خان اچكزئی نے فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع كی آئینی ترمیم كی حمایت كو جمہوریت كے حق میں پانچ نكات پر مشتمل قرارداد كی منظوری سے مشروط كرتے ہوئے كہا كہ فوجی عدالتوں كی ترمیم تمام عدالتی نظام پر بداعتمادی ہے، صرف بلوچستان میں دہشت گردی كے واقعے كے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بہادری كا مظاہرہ كرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ مرتب كی، ملك كی تاریخ میں پہلی باركمیشن كا نتیجہ سامنے آیا ہے۔

آئینی ترمیم پر اظہار خیال كرتے ہوئے پاكستان پیپلزپارٹی كے رہنما سید نوید قمر نے فوجی عدالتوں كی مدت میں توسیع كی آئینی ترمیم كو پاكستان كے20 كروڑ عوام كے حقوق معطل كرنے كی ترمیم قرار دے دیا۔ پیپلزپارٹی نے واضح كیا كہ آج بھی اسی مقام پر كھڑے ہیں جہاں 2سال پہلے موجود تھے، 2 سال كے بعد بھی توسیع نہ مانگنے كی كوئی ضمانت نہیں ہے۔ نوید قمر نے مطالبہ كیا كہ آج آئینی ترمیم كی منظوری سے قبل پارلیمانی كمیٹی برائے قومی سلامتی كی تشكیل كی قرارداد لائی جائے ورنہ ہمارے لیے مشكل صورتحال ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY