تئیس مارچ انیس سو چالیس یوم قرارداد پاکستان ہے

0
2835

تئیس مارچ انیس سو چالیس یوم قرارداد پاکستان ہے جب آل انڈیا مسلم لیگ نے قرارداد پاکستان پیش کی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے یہ قرار داد پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے۔
اٹھارویں صدی میں مغرب میں قوم اور قومی ریاستوں کے تصور کے ظہور سے قبل ہی ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے دو علیحدہ قومیں تھیں، مگر 1858ء میں جب برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک قوم قرار دے کر حکمرانی شروع کی تو ہندوستان کے مسلمان بجا طور پر اپنے قومی تشخص کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (مسلم وقف الاولاد قانون کی برطانوی ہند میں منسوخی اور قائداعظم کی جدوجہد سے 1931ء میں اس کی بحالی اس امر کی ایک بڑی مثال ہے)۔ یہی امر دراصل قرارداد پاکستان کی بنیاد بنا جس نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا تعین کیا۔
یوں تو ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا جزوی اور واضح تصور بہت سارے دانشوروں، اہل علم اور سیاستدانوں نے دیا مگر مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کے اجلاس میں جو قرارداد منظور ہوئی وہ درحقیقت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؔ کی کاوش کا نتیجہ تھی جو انھوں نے مئی 1936ء سے نومبر 1937ء کے عرصے میں قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ہونے والی اپنی خط و کتابت میں کی تھی۔ اقبالؔ نے اپنے ان خطوط میں قائداعظم پر زور دیا تھا کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کا مطالبہ کریں اور جلد از جلد مسلم اکثریتی علاقے لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس منعقد کریں۔ قائداعظم نے اقبالؔ کے ان خطوط کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ انھوں نے اقبالؔ کے اس تصور کو اس لیے قبول کیا تھا کہ وہ ان کے اپنے خیالات کے مطابق تھا۔ یعنی ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے قائداعظم بھی اسی نتیجے پر پہنچے جس طرف اقبال نے ان کی توجہ مبذول کروائی۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا ستائیسواں سالانہ اجلاس منٹو پارک لاہور میں منعقد ہوا جو 22 مارچ سے 24 مارچ 1940ء تک جاری رہا۔ اسی جگہ پر آج یادگار پاکستان قائم ہے۔ اس تاریخی اجلاس کی صدارت قائداعظم نے کی۔ جس کے لیے وہ دہلی سے بذریعہ ٹرین فرنٹیئر میل لاہور پہنچے تھے۔

تئیس مارچ انیس سو چھپن پاکستان دنیا کاپہلا اسلامی جمہوری ملک بنا

تئیس مارچ انیس سو چھپن سوڈان کو آزادی حاصل ہوئی

سودان يا السودان (عربى ميں معنی “کالے لوگ” ہے) براعظم افریقا کا ایک اسلامی ملک ہے۔
1851ء کے بعد سے یورپی اور عثمانی سوداگروں نے ہاتھی دانت کی تلاش میں بالائی نیل کے دریائی علاقوں میں آ مدورفت شروع کی ان کی بے لگام مداخلت کے، قبائلی معاشرے کی نافرمانی اور غلاموں کی تجارت کی نئے علاقوں تک توسیع کی صورت میں دو منفی نتائج تھے۔ خیدِو اسماعیل (1863-79)حکمران تھا۔ برطانوی گورنر جنرل، جنرل گورڈن 1877ء میں تعینات ہوا۔ 1879ء میں خیدِو اسماعیل کو تخت سے اتار دیا گیا اور جنرل گورڈن نے استعفیٰ دے دیا۔ محمد احمد مہدی نیا حکمران بنا۔ سر ہربرٹ کچنر نے جو اس وقت مصری فوج کا سربراہ تھا سوڈان کو پھر سے فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کی قیادت کی اس نے 1898ء میں ڈنگولا صو بہ پر پھر سے قبضہ کرلیا۔

دوبارہ فتح کیے گئے علاقوں کی حیثیت کا تعین ایک کنونشن کے تحت جنوری 1899ء میں کیاگیا جس میں مصر اور برطانیہ شامل تھے۔ اس کا ڈرافٹ ایک برطانوی ایجنٹ لارڈ کرومر نی برطانوی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق تیار کیا اور اس کا بنیا دی مقصد سوڈان سے بین الاقوامی ادارے اور مصری حکومت کے اختیارات کا اخراج تھا۔ سوڈان کو باقاعدہ طور پر مصر اور برطانیہ کی مشترکہ حکومت کا ماتحت علاقہ بنا دیا گیا۔ 1910ء میں گورنر جنرل کونسل قائم کی گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نئی سیا سی پیش رفت اور قوم پرست احساسات کے آغاز کا مشاہدہ کیاگیا اسماعیل الازہری سوڈانی سیاست دانوں میں سب سے زیا دہ مقبول اور مضبوط ہوگئے تھے۔ سوڈان حکومت نے اپریل 1952ء میں ایک خود حکومتی آئین کا اعلان کیا جنوری 1954ء میں نئی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں نیشنل پارٹی کے لیڈر اسماعیل الازہری کو وزیر اعظم منتخب کرلیاگیا۔ فوج، پولیس اور سول سروس سے برطانویوں کی واپسی اور سوڈانی لوگوں کی بھرتی کا عمل تیزی سے شروع ہوا۔ پارلیمنٹ نے مزید اقدامات کرکے الازہری کو اس قابل کردیا کہ انہوں نے یکم جنوری 1956ء کو سوڈان کو ایک آزا د جمہوریہ بنانے کا اعلان کردیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY