برطانوی حکام کے مطابق ابھی تک ایسے کوئی بھی شواہد نہیں ملے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے گا کہ لندن میں حملہ کرنے والے خالد مسعود کا تعلق اسلامک اسٹیٹ یا القاعدہ سے تھا۔
میٹروپولٹن پولیس کے نائب کمشنر نیل باسو نے صحافیوں کو بتایا کہ باون سالہ خالد مسعود کو جہاد میں دلچسپی تو تھی لیکن یہ بات حتمی نہیں کہ اس نے اپنے منصوبے کا ذکر کسی دوسرے شخص سے بھی کیا تھا۔
اس دوران مسعود کی والدہ جینٹ آخایو نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی۔













