قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل 2017 منظور کرلیا،28ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا، ترمیم کے حق میں 78 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے۔

صدرمملکت ممنون حسین کے دستخط کے بعد بل ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا، ایکٹ بننے سے فوجی عدالتوں کی مدت میں 7جنوری 2017ء سے 2 سال کی توسیع ہوگی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکتا ہے ۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال توسیع کے لیے28 ویں آئینی ترمیمی بل 2017ءمنظوری کےلیے سینیٹ میں پیش کیا۔

ایوان میں ارکان کی تقسیم کے ذریعے رائے شماری کرائی گئی،78 ارکان نے بل کی حمایت کی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 3ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا، جے یو آئی ف کے ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ انہوں نے چیمبر میں بیٹھ کر تاریکی میں اس بل پر دستخط کرنے کی بجائے اجلاس کی صدارت کر کے آئینی ذمہ داری ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بتایا کہ بل میں پیپلز پارٹی کی چار ترامیم کو شامل کیا گیا ہے، ہمیں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے اور شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ، ہم نے اچھا کام کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعداس وقت کی حکومت ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہو گئی تھی جس کے بعد دہشت گردی پھیلی، پاکستا ن کو اب بھی دہشت گردی سمیت معاشی اور توانائی کے سخت چیلنجز درپیش ہیں۔

قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے میٹھی باتوں میں کچھ حقائق غلط پیش کیے ہیں،حکومت کو فوج کے شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کا 2 دن بعد پتہ چلا۔

انہوں نے کہا کہ جس کمانڈر نے آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا، اسے پارلیمنٹ کی یمن قرارداد کی روح کے خلاف سعودی عرب بھیجا جا رہا ہے، اس اقدام کی حمایت ہو گی تو کہیں گے ہم نے کیا ، مخالفت ہوئی تو کہیں گے سعودی حکومت کا دباؤ تھا ، دنیا جانتی ہے قومی ایکشن پلان پر فوجی عدالتوں کے قیام کے علاوہ کسی نکتے پر عمل نہیں ہوا۔

سینیٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کے قیام کی قرارداد بھی منظور کر لی ،اس کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان شامل ہوں گے جو قومی سلامتی کے امور پر عمل درآمد کی سہ ماہی رپورٹ پیش کیا کرے گی

SHARE

LEAVE A REPLY