بشارالاسد کی حمایت کا وقت گزر چکا‘برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن

0
274

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ روس کو ’’زہریلے‘‘ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔
انھوں نے سوموار کے روز اٹلی میں سات بڑے صنعتی ممالک پر مشتمل گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل یہ بیان جاری کیا ہے۔برطانوی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان کے مطابق جانسن نے کہا ہے:’’اب وقت آگیا ہے کہ (روسی صدر) ولادی میر پوتین جس ظالم اور جابر کی سرپرستی کرتے چلے آرہے ہیں،اس کے بارے میں سچ کا سامنا کریں‘‘۔
انھوں نے کہا :’’ ہم صدر پوتین پر یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ بشارالاسد کی حمایت کا وقت گزر چکا‘‘۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ صدر پوتین بشارالاسد کی حمایت جاری رکھ کر روس کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بورس جانسن نے اپنے اس سخت بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ انھیں ( روسی صدر کو) یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بشارالاسد ہر لحاظ سے ایک زہر ہیں۔وہ شام کے بے گناہ لوگوں کو ان ہتھیاروں کے ذریعے زہر دے رہے ہیں جن پر ایک سو سال پہلے پابندی عاید کردی گئی تھی اور وہ روس کی شہرت کو بھی زہر آلود کررہے ہیں‘‘۔
برطانوی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز اپنا ماسکو کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ روس کی جانب سے مسلسل بشارالاسد کی حمایت کے ردعمل میں کیا تھا۔روس نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر کیمیائی حملے کے باوجود صدر اسد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔گذشتہ منگل کے روز اس حملے میں ستاسی شہری جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔
اس حملے کے ردعمل میں امریکا نے شام کے وسطی صوبے حمص میں واقع ایک فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔امریکا کی یہ بشارالاسد کے خلاف پہلی فوجی کارروائی تھی۔بورس جانسن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کی شام میں یہ کارروائی کھیل تبدیل کرنے والا اقدام ہے‘‘۔
واضح رہے کہ روس کی وزارت خارجہ نے بورس جانسن کے ماسکو نہ آنے کے فیصلے کی مذمت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کا اب عالمی امور میں کوئی اثر ورسوخ نہیں رہا ہے۔
یادرہے کہ 1914 سے 1918ء تک لڑی گئی پہلی عالمی جنگ کے دوران میں 1915ء میں مغربی محاذ پر زہریلی گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔1925ء میں جنیوا پروٹوکول کے تحت بین الاقوامی سطح پر اس کے استعمال پر پابندی عاید کردی گئی تھی اور یہ پروٹوکول 1928ء میں نافذ العمل ہوا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY