مشعل خان کی میت پہ رقصِ ابلیس کا تدارک ضروری ہے: محمد رفیق مغل/لندن

0
780

پاکستان کے صوبہ خیبر بختون خواہ کے شہر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشعل خان یوسفزئی کے قتل کا پیش آنے والا المناک واقعہ ناقابلِ بیان حد تک دردناک اور افسوسناک ہے۔ یہ پاکستانی معاشرے میں لوگوں میں پروان چڑھتی عدم برداشت، سیاسی، اسلامی بے راہ روی اور قانون کو ہاتھ میں لیکر خود انصاف کا تیہ پانچہ کرنے کی بدترین مثال ہے۔ اگر طالب علم نے گستاخی کی تھی تو مکمل شواہد کے ساتھ اسے عدالت میں پیش کیا جانا چائیے تھے تاکہ اس پہ لگے الزام کو انصاف کی باریک پرکھ سے فیصلہ کیا جاسکتا۔ پاکستان میں توہینِ رسالت کے مرتکب کیلئے سزائے موت کا قانون ہے جسے پاکستان کے آئین کے تحت قانون ساز ادارے قومی اسمبلی نے پاس کر رکھا ہے اور اس قانون کا احترام نہ صرف پاکستانیوں پہ لازم ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک تسیلم شدہ آزاد اور خودمختار ریاست کا منظور کردہ قانون محترم ہے۔ بات تب ہی بگڑتی ہے جب اسلامی قوانین اور پیغمبرِ اسلام کی عظمت اور حدود اللہ کی تشریح محتاط اور پختہ کار علماء اکرام کے بجائے اللے تللے کرنے بیٹھ جائیں۔ ایسے میں اسلامی تعلیمات، ہدایات و احکامات سے نابلد ایسے لوگ بھی اسلام کا تڑکا لگانا شروع کر دیتے ہیں جن کی اپنے کچن میں دال تک نہیں گلتی۔
پاکستان میں طالبِ علم کا دوسرے طلباء کے ہاتھوں قتل اور اس وحشت ناک منظر میں مقتول ک برہنہ نعش کی بے حرمتی تقاضائے عشقِ رسولِ خدا (ص) ہرگز نہیں ہوسکتی۔

یہ غضبناک صورت حال ظلمت کو بھی شرمندہ کرتی نظر آ رہی ہے اس عمل کو عشق رسول سے تعبیر کرنا بھی دربارِ رسالتِ ماٰب (ص) میں گستاخانہ جسارت کے سوا کچھ نہیں۔ اس عمل سے جہاں ایک ہجوم کی جہالت عیاں ہوئی ہے وہیں اسلام پہ انگشت نمائی کرنے والوں نے اپنے وجود سے بھی زبادہ لمبی زبانین نکال کر اسلام مخالف ہرزہ سرائی سے آسمانِ دنیا سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ اسلام نے کسی بھی مذہب کی توہین و تذلیل اور گالم گلوچ سے منع کیا ہے تاکہ دیگر مذاہب کے احترام کو جہاں ملحوظ رکھا جاسکے وہیں اسلام پہ بھی نفرت انگیز اشتعال کی نوبت نہ آئے۔ اسلام دلیل سے اور اخلاق سے اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا ہے نہ ماننے کی صورت میں “تمہارے لیئے تمہارا دیں ہمارے کیلئے ہمارا دین” کا سنہری اور پرامن راستہ بھی اسلام نے دیا ہے۔ لیکن جو لوگ اسلام، پیغمبرِ اسلام، اہلِ بیت، صحابہ اکرام، قرآن حکیم یہاں تک کہ اللہ رب العزت کی توہین کرتے ہیں اپنے اندر کاشر، بغض، غلاظت اور خناس مقدس ہستیوں کی کی توہین، حدوداللہ پہ تنقید اور قرآن مجید کو جھوٹا کہہ کر اپنے اندر کی گندگی نکالتے ہیں ان کی شرپسندی سے ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو مردان جیسے سانحات کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
گندگی جب تک گٹر میں رہتی ہے وہ اہلِ محلہ کیلئے قابل قبول ہوتی ہے لیکن جب گٹر ابل پڑیں ان کا سدِباب کرنا پڑتا ہے اس کیلئے باشعور لوگ قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں اور جن کا قانون پر سے اعتماد ختم ہوجائے وہ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ ان مذہبی شدت پسندوں کے جزبات کو بھڑکاوے دینے کے اصل مجرم ملحد شدت پسند ہیں جو بعد میں مشعال جیسے مظلوموں کی میت پہ رقصِ ابلیس بپاء کرتے ہیں۔

پاکستان میں لوگ قانون کی عملداری سے مطمئن نہیں ہیں ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ علماء اکرام میدان میں آئیں اور کردار ادا کریں تاکہ عام آدمی کو پتہ چلے کہ یہ معاملہ کتنے حساس اور سنگین ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر واللہ علم کیا ہوگا مگر میں سمجھتا ہوں کہ مشعل خان اگر بے گناہ مارا گیا ہے تو اس کو مارنے والے قاتل ہی نہیں بلکہ گستاخانِ رسول بھی ہیں ان کو سی سی ٹی فوٹیج سے شناخت کر کے قتل کے ساتھ ساتھ توہینِ رسالت کی قانونی سزا بھی دی جائے۔ ہم اجتماعی طور دلیل کی بات سے عاری ہوکے ہلہ گُلہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ حقائق کی جانکاری کا تردد تو جیسے چھو کر نہیں گزا۔ سنی سنائی بات پہ ایسے ڈور پڑتے ہیں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ انسانیت کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ تو ایسے بےلگام ہوئے بیٹھے ہیں کہ الاامان و الحفیظ۔ اسلام سے متعلق مواد کی تحقیق از حد ضروری ہے کسی بھی ایسی پوسٹ کو جس میں گستاخ ِ رسول ، یا دعویٰ نبوت کے حوالے سے کوئی بات کی گئی ہو کسی پر الزام لگایا گیا ہو اس کو بالکل شئیر نہیں کرنا چائیے جب تک اس کی مکمل تصدیق نہ کر لی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ چاہی تو اسلام کی خدمت جا رہی ہو مگر درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا بیٹھیں ۔کیونکہ ہمیں یہ ہی حکم ہے۔
‎يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ
‎اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو انجانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ، سورہ حجرات!

قرآن حکیم کی ایک اور آیتِ مبارکہ کا مفہوم ہے “جس نے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے”۔
یونیورسٹی کے قابل مزمت واقعہ کی آڑ میں اپنے اندر کی خباثت ظاہر کر کے اسلام پہ اور پیغمبر اسلام پہ تنقید سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے ایسے واقعات کے اصل موجب ہیں جس کا نتیجہ ایسا بھیانک ہوتا ہے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

‎میں نے خود مشعل خان یوسفزئ کےزیراستعمال سوشل میڈیا اکاونٹس چیک کئیے ہیں۔ میری نظر سے اس کی کوئی گستاخانہ تحریر نہیں گزری بلکہ اس کے نام سے بنی جعلی آٹی ڈیز پہ قابل اعتراض مواد ہے لیکن اس کی اس نے تردید کی ہے۔ اگر وہ گستاخ ہوتا بھی تو اس کے قتل کا ظلم قابل قبول نہیں، اس کا تعلق باچاخان کی سیاسی جماعت سے تھا اور دوسرے سیاسی مخالفین نے اس کی سرخ ٹوپی پہ اشتعال انگیزی کر کے قتل کروادیا جو کہ درحقیقت مذہبی نہیں سیاسی قتل ہے۔ تحقیق کرنے والوں کو حقائق سامنے لانے چائیے ناکہ مذہبی رنگ دیکر فساد پھلانا چاہیے۔ غلط کار کو غلط کہا جائے غلط کی آڑ میں اپنے اندر کی خباثت ظاہر کرنے کا بےلگام عمل مکرہ خیالات اور بدباطنی کا مظہر ہے۔
‎ترقی کے راستے پہ گامزن پاکستان انتھا پسندی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف مذہبی انتھا پسند ہیں جو دین اسلام پہ دسترس رکھنے والے محتاط اور پختہ کار علماء سے دور ہیں اور دوسری طرف ابوجھل کے پیروکار، مذہب بیزار ملت فروش انسانیت کا لبادہ اوڑھے غلط کاروں کی غلط کاری پر اسلام جیسے مقدس مذہب پہ بھونکے چلے جا رہے ہیں۔ تحقیق احقائقِ حق سے کوسوں دور ان جاہلوں کو اسلام کے مطالعے کی ضرورت ہے۔
‎یہ دوسرے درجے کے اسلام مخالف انتھا پسند پاکستان کے امن کیلئے زیادہ خطرناک اور زہرِ قاتل ہیں۔
انھی کی بھڑکاوے میں آکر پاکستان میں عوام جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عشقِ رسول کے نام پہ بلوائی بن جاتے ہیں۔
مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں قتل ہونے والے مشعل خان یوسفزئی کی میت پر روقصِ ابلیس کرنے والے مذہبیوں اور ملحدوں پہ اللہ کریم ہدایت دیں۔
‎مذہبِ اسلام اس کے ماننے، یقین کامل کے ساتھ اسلامی تعلیمات پہ عمل کرنے والوں کیلئے نجات و بخشش کا سبب ہے۔ لیکن کچھ لوگ اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کیلئے دینِ متین پر بھونک کے، اس پہ اپنی مرضی کا پینٹ کر کے اسلام کو منافع بخش پروڈکٹ کے بطور پر بیچتے ہیں۔ خصوصاً جو کوئیلوں کی دلالی میں منہ کالا کر چکے ہوتے ہیں تاکہ ان کی سیاہی اس دین فروشی سے دھل سکے۔
‎خدائے برزگ و برتر بے راہ روی کاشکار مذہبی انتھا پسندو اور مذہب مخالف شرپسند دجالوں کی جنونیت ہم سب کی حفاظت فرمائیں اور صیراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دیں۔ آمین ثم آمین۔

SHARE

LEAVE A REPLY