آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے کہا ہے کہ مشال خان کے سوشل میڈیا اکاونٹ کی تصدیق کے لئے ایف آئی اے کو درخواست دیدی ہے ،پولیس تفتیش میں مشال ،عبداللہ اور زبیر پر الزام ثابت نہیں ہوا ۔

میڈیا سے گفتگو میں آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ قتل کے مقدمے میں 22ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے،جن میں 6یونیورسٹی ملازمین بھی شامل ہیں،کل سپریم کورٹ میں جامع رپورٹ جمع کرائوں گا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشال خان اور ان کے2 ساتھیوں پر نازیباالفاظ استعمال کرنےکاالزام تھا،واقعے سے پہلے یونیورسٹی میں انکوائری چل رہی تھی۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا کہناتھاکہ مشال خان کے خلاف اب تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر عدالتی کارروائی کی جائے، سوشل میڈیا پر ہونے والی پوسٹس اور تبصروں کی جانچ کےلیے ایف آئی اے کی مدد لے لی ہے۔

انہوں نےکہا کہ مشال کا دوست عبداللہ آج عدالت میں پیش ہوا اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا،اس نے توہین مذہب کے الزامات کی تردید کی ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا مزید کہناتھاکہ اس مقدمے میں پولیس نے بہت حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں ،ہجوم میں نظر آنے والا پولیس اہلکار ڈی ایس پی تھا، جس نے مشال کی لاش کو کیمپس سے باہرنکالا۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں پولیس کا آنا جانا لگا رہتا ہے ،وہاں ڈسپلن کے مسائل رہتے ہیں،جامع میں 50سے 60سیکورٹی گارڈز بھی رکھے ہوئے ہیں، ملزمان کی سیاسی وابستگیاں ہیں، جو بھی ہو، ہمارے لیے وہ ملزم ہی ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY