معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سےانتقال کرگئے

0
2151

معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سےانتقال کرگئے

چار دہائیوں تک مسکراہٹیں بکھیرنے والا فنکار کروڑوں دلوں میں آج بھی زندہ ہے، گوگل نے اپنا ڈوڈل لیجنڈ اداکار کے نام کر دیا۔ معین اختر نے 24 دسمبر کو کراچی میں آنکھ کھولی، 16 برس کی عمر میں سٹیج ڈراموں سے فنی زندگی کا آغاز کیا۔ بکرا قسطوں پر اور بڈھا گھر پر ہے نامی ڈراموں سے شائقین کے دلوں میں گھر کر لیا۔ پی ٹی وی کے ڈرامے روزی کا کردار ایسے منجھے ہوئے انداز میں نبھایا کہ لوگ اش اش کر اٹھے۔

معین اختر کا نام آہستہ آہستہ ڈراموں کی کامیابی کی ضمانت بنتا گیا۔ آنگن ٹیڑا، ففٹی ففٹی ،ہاف پلیٹ اور سچ مچ میں معین اختر کی مزاحیہ اداکاری نے دیکھنے والوں کے دل جیت لئے۔ ان کو انگریزی، پنجابی، سندھی زبانوں پر بھی ملکہ حاصل تھا۔ ان کی فن کیلئے شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

فن کی دنیا میں مزاح سے لے کر پیروڈی تک، اسٹیج سے ٹیلیویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان کے شوبز کی تاریخ نامکمل ہے۔

فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ معین اختر 24 دسمبر 1950کو کراچی میں پیدا ہوئے،کیریر کا آغاز 60ء کی دہائی کے وسط میں کیا، راجا پہلوان آیا اور پھر اس کے سامنے کوئی نہ ٹک سکا۔

بحیثیت اداکار، گلوکار، صداکار، مصنف، میزبان اور ہدایتکار بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔کسی بھی ڈرامے میں ان کی موجودگی تہذیب یافتہ تفریح اور فیملی انٹرٹیمنٹ کی ضمانت تھی ۔

معین اختر صرف ایک انسان نہیں بلکہ فن کے ایک عہد کا نام ہے۔میزبان ہو تو معین اختر جیسا برجستہ،اسٹیج پر ہوں تو مکالموں میں جان ڈالنے والے آرٹسٹ۔

ان کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سمیت قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

اپنی محنت لگن اور عمدہ اداکاری کی وجہ سے پاکستان کے لئے فخر کا باعث بننے والے معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سےانتقال کرگئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY