پچیس اپریل
سن 1707ء – اختلاف جانشینی ہسپانیا کی جنگ المانسہ میں فرانسیسیوں نے آسٹرینز کو ہرا دیا۔
سنء – ٹیکساس پر اختلافات کی وجہ سے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان جنگ ہو گئی
سن1859ء – نہر سوئز کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔
سن1898ء – امریکہ نے ہسپانیا سے اعلان جنگ کر دیا۔
سن 1926ء – رضا پہلوی ایران کا شاہ بن گیا۔
سن1945ء – پچاس ممالک نے اقوام متحدہ کا آعاز کیا۔
سن1982ء – اسرائیلی فوجوں کی سنائی سے واپسی مکمل ہو گئی۔
سن 1993ء – سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کر دی۔
سن1982ء برطانوی فوج نے جنوبی جارجیا پر حملہ کردیا
سن1982ء اسرائیل نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت سینائی کے علاقوں سے فوجیں واپس بلالیں
سن2005ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کئے
سن1971ء ویتنام جنگ کیخلاف دولاکھ افراد نے واشنگٹن میں احتجاجی مارچ کیا
سن1926ء شاہِ ایران رضا خان پہلوی کی تاج پوشی
سن1915ء جنگ عظیم دوم:آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فوج نے ترکی پر حملہ کیا
سن1877ء روس نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا
پچیس اپریل سن1859ءمیں نہر سوئز کی تعمیر شروع ہوئی
نہر سوئز مصر کی ایک سمندری گذرگاہ ہے جو بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 3000 میٹر چوڑی ہے۔
اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقا کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کرسکتے ہیں۔ 1869ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے بذریعہ سڑک لے جایا جاتا تھا۔ 1869 میں اس نہر کے کُھل جانے سے انگلینڈ سے ہندوستان کا بحری فاصلہ نہ صرف 4000 میل کم ہو گیا بلکہ مون سون پر انحصار بھی کم ہو گیا۔
پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکہ اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبدالناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔













