پاناما جےآئی ٹی: اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی کے پیش کردہ نام مسترد

0
244

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں پر اعتراض اٹھا کر انھیں مسترد کردیا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے بنائے گئے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے سماعت کی۔

جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن بهی خصوصی بنچ کا حصہ ہیں۔

سماعت کے دوران بینچ نے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی کو عدالت میں طلب کرلیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا، ‘ہم چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی میں ایسے لوگ شامل کیے جائیں جو ایمان دار اور اپنے کام میں مہارت رکھتے ہوں’۔

ان کا مزید کہنا تھا، ‘ہم چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ جے آئی ٹی میں شامل ہوں جن کا ماضی بے داغ ہو اور وہ ہیرے کی طرح شفاف اور قابل ہوں’۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ بھیجے گئے افسران کے نام غیر جانبدار نہیں، ساتھ ہی عدالت نے دونوں اداروں کو ہدایت کی کہ گریڈ 18 سے اوپر کے تمام افسران کی لسٹ ساتھ لے کر آئیں۔

اس موقع پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ‘کسی کو عدالت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی’، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ‘فہرستیں اس لیے طلب کی گئی ہیں تاکہ ہم خود چناؤ کریں’۔

بعدازاں کیس کی سماعت جمعہ (5 مئی) تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY