اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی کو ’خلافِ قانون‘ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا کہا ہے۔
جمعے کو جاری کی گئی اپنی مشاورتی رائے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری، مشرقی یروشلم کے الحاق، اس کی زمین پر مستقل کنٹرول اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی قوانین کی نشان دہی بھی کی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کی اس مشاورتی رائے پر عمل درآمد لازم نہیں۔ تاہم بین الاقوامی قانون اور اسرائیل کے قبضے سے متعلق واضح مؤقف کی وجہ سے وزن رکھتی ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل کی حمایت کو کمزور بھی کرسکتی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے عدالت کے فیصلے کو “انصاف کی فتح” قرار دیا ہے۔
لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، جنہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی ایک بڑی توسیع کی نگرانی کی ہے کہا کہ “یہودی افراد حود اپنی سرزمین پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں۔”
فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے سے متعلق یہ معاملہ گزشتہ برس اکتوبر میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی سے بہت پہلے عالمی عدالت کے سامنے لایا گیا تھا۔













