لندن کے وسط میں دریائے ٹیمز کے کنارے جھلملاتی روشنیوں کے درمیان واقع خوبصورت مرکزی ثقافتی مرکز ’ ساؤتھ بینک ‘ کا ایک ہال اٹھائیس مئی دوہزار سترہ اتوار کے روز کچھا کچھ بھرا ہوا تھا، جہاں جنوبی ایشیا کی ہر رنگ و نسل ، ہر مذہب اور فرقے کے علاوہ مقامی کمیونٹی کے افراد عابدہ پروین کے ہر ہر مصرع اور تان پر والہانہ داد دے رہے تھے۔
خصو صا” بر صغیر کے صوفی شاعر بلھے شاہ کے کلام
’ مسجد ڈھادے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں رب دلاں وچ وسدا
اور شہباز قلندر پر تو سامعین جیسے جھوم جھوم اٹھے، اور ایک مرحلے پر یوں لگا کہ ہال عالم وارفتگی میں جھوم رہا ہو،

پاکستان کی صف اول کی گلوکارہ عابدہ پروین دس برس بعد لندن آئیں تھیں۔ بہت مختصر سازوں کے ساتھ گاتی ہیں۔ بس ایک طبلہ، ایک ڈھولک اور ایک ہار مونیم ، مگر جو لحن انھیں ملا وہ شائد ہی کسی اور گلوکارہ کو نصیب ہو۔
منجھی ہوئی گلوکارہ تو وہ ہیں ہی مگر جس طرح وجد میں اکر وہ صوفیانہ کلام گاتی ہے ، وہ سامعین کے دل و ذہن کو چھوئے بغیر نہیں رھتا۔

عابدہ پروین نے اللہ کے حبیب کے قول ’من کنت و مولا‘ سے محفل کا آغاز کیا جسے امیر خسرو نے قوالوں کے لازم قرار دے رکھا ہے وہ آغاز اسی قول رسول سے کریں، تا ہم شہباز قلندر کی دھمال پر اختتام ، اس دوران تقریباً ذیڑھ گھنٹے میں کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جب حاضرین عابدہ پروین کے ساتھ نہ ہوں۔ لطف کی بات یہ تھی ہال میں موجود بہت لوگ ایسے تھے جنھیں شاید اردو اور پنجابی سمجھ میں بھی نہ آرہی ہو، مگر موسیقی کی اپنی زبان ہوتی ہے اورانتہائی خوشی کی بات یہ تھی کہ حاضرین میں نوجوان نسل کی بھی بھر پور شرکت تھی،انہوں نے سامعین کی فرمائش پر حکیم ناصر کی مقبول غزل۔۔۔۔۔ جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔۔۔ سنائی۔ یہ غزل عابدہ پروین کی ابتدائی زمانے کی غزل ہے جس سے انہیں شہرت ملی۔

عابدہ پروین کے ساتھ اس شام کا اہتمام صوفیانہ موسیقی کے فروغ کے لیے کام کرنے والے رفیع پیر صوفی موسیقی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔
شائد پاکستان کا بڑے سے بڑا سفارتی مشن یہ کام نہیں کرسکتا۔جو عابدہ پرین صرف ایک شام میں کرگئی۔ ایسی شام جب ہزاروں سامعین پاکستان کا ایک خوبصورت تصور لیکر اپنے گھروں کو لوٹے۔












