ساتویں اورآٹھویں کا دور میرے لئے ایک نئے عہد اور دور کا نام ہے. کہ جب عزت، شہرت اور ایک نئ شناخت ملی. آنہ لائبریری کی کتابیں تو ہم کب سے پڑھ رہے تھے. لفظوں کے شیدائی اور اسیر. اچھی کتابیں اور تحریریں مسرور ومسحور کر دیتیں. یوں تو اے آر خاتون، نسیم حجازی اور بےشمار لوگوں کی کتابیں پڑھیں. مگر شفیق الرحمان کا ساتھ مستقل رہا. ان کی دھنک رنگ تحریر زندگی میں رنگ اور لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی. اور پھر خود جانے کب قلم پکڑا. اور بچوں کے صفحے کے لئے بھیجنے لگے. مگر یہ ادراک نہیں تھا کہ کچھ لکھ سکتے ہیں -یہ ادراک اورپہچان مس شکیلہ عباسی نے دی.مس شکیلہ عباسی اور ان کے علمی و ادبی خاندان کا تعلق لکھنو سے تھا. ان کے والد، بھائ اور بہن زہرہ عباسی سب شاعر تھے. لمبے سے قد اور دھان پان سی مس شکیلہ عباسی لکھنوی تہذیب کا نمونہ تھیں. اردو کی بہترین استاد ہونے کے ساتھ ساتھ سکول کی بزم ادب کی نگران اور تمام ہم نصابی سرگرمیوں کی انچارج تھیں. اردو کا صیحیح تلفظ سکھانے میں انہوں نے بہت محنت کی ۔خاص طور پر ق “کی ادائیگی ان کے سامنے اگر درست انداز میں اردو نہ پڑھی جاتی تو بہت برامناتیں ۔بقول ان کے غلط تلفظ سن کر ان کے کانوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے ۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی دیوار کو ناخنوں سے کھرچےتو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
انہوں نے ایک مضمون لکھنے کو دیا ۔
میرا نصب العین “گھر کے کام کے لئے
اس زمانے میں خلاصہ نامی کوئی چیز نہیں پانی جاتی تھی ۔لہذا خط ہو یامضمون جو لکھنا ہوتا خود سے ہی لکھناہوتا ۔تھااور گھر کے کام یعنی ہوم ورک میں بھی گھر والے کسی مدد کے روادار نہ تھے ۔جو لکھنا پڑھنا ہوتا ۔خود ہی سب کچھ کرنا پڑتا ۔بس سالانہ نتیجہ دیکھ کر خوش ہوجاتے ۔صرف خوش ۔۔۔۔۔۔
کوئی انعام وغیرہ نہیں جیسا کہ آج کل بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے دیے جاتے ہیں ۔ہاں تو بات کر رہے تھے کہ ساتویں کلاس کے آغاز میں پہلا مضمون میرا نصب العین “اس عنوان پر لکھنے کوملا ۔اس مضمون کولکھ کر دوسرے دن کاپی مس شکیلہ عباسی کو دکھای ۔انہوں نے پڑھ کر شاباش دی۔پیریڈ ختم ہوا تو تھوڑی دیر بعد دسویں کلاس کی باجیاں آگییں کہ اپنی اردو کی کاپی دو ۔مس شکیلہ نے منگوای ہے۔پھر ایک دودن کاپی یوں گردش میں رہی کہ 9th 1othجہاں جاتیں انہیں مضمون پڑھواتیں کہ دیکھو ساتویں کلاس کی بچی نے ایسا مضمون لکھا ہے ۔یوں پوسکول میں مشہور ہوگئے ۔اس واقعے نے ہمارے اعتماد میں اضافہ کیا ۔اور اب زیادہ زوق و شوق سے بزم ادب کے پروگراموں میں حصہ لینے لگے ۔چھوٹے چھوٹے مضمون لکھ کر اسمبلی میں پڑھنے لگے ۔سچ ہے کسی ایسے استاد کا ملنا جو آپ سے پیار بھی کرے اور آپکی خفتہ صلاحیتوں کودریافت کر کے اسے توجہ اور پیار کے پانی سے سینچے ۔اس سے بڑھ کرخوش بختی اور کیا ہوگی ۔ورنہ میں تو گھر میں مہمانوں کے آنے پر چھپ جایا کرتی تھی ۔اور اکثر گھر والوں کے اصرار پر سامنے آتی بھی تو کچھ بولنے کی بجاے خاموش ہی رہتی. مگر سکول میں اساتذہ خاص طور پر مس شکیلہ عباسی کی محبت اور حوصلہ افزائی نے ایسا بھرپور اعتماد وحوصلہ دیا.کہ پورے سکول اور باہر سے آے مہمانوں کے آگے پورے اعتماد سے بولتی. عید میلاد النبی کی تیاری بہت شوق اور جذبے سے کرواتیں. .اور نعتیں تو مختلف لڑکیاں پڑھتیں. جب کہ تمام اہم مضامین میرے حصے میں آتے. جن میں اخلاق حسنہ اور معراج پر بہت اہم اور پر مغز مضامین شامل تھے.جن کو لوگ بہت پسند کرتےان کے ہاتھ کی لکھی کاپی آج بھی میرے پاس محفوظ ہے. ان کی بیش بہا یادوں کی طرح!
وہ ان کی ہلکی سی مسکان اور آنکھوں میں بہت سا پیار مگر اس وقت اتنی سمجھ اور شعور کہاں تھا. اساتذہ کا ایسا احترام کہ غیر ضروری بات سے بھی ڈرتے -سٹاف روم جانے کی بھی ہمت نہ ہوتی. بہت سالوں بعد جب خود اللہ کے کرم سے اس منصب پر فائز ہوے تو زمانہ بدل چکا تھا. اب نئ نسل بہت پر اعتماد اور بے دھڑک اپنے خیالات کا اظہار کرنے والی تھی. -سو کلاس کے اندر، کلاس کے باہر ہمارے لباس، رنگوں کے انتخاب اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کر جاتیں. تو ہم سر جھکا کر ندامت سے دل میں سوچتے کہ کاش کبھی ہم نے بھی ان کی بے پایاں محبت کے جواب میں ان کا شکریہ اور پسندیدگی کا اظہار کیا ہوتا. مگر منیر نیازی کی زبان میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بزم ادب کے پروگرام میں بیت بازی کو اہم مقام حاصل تھا. میری ہم زوق دوست روشی اور میرا سخت مقابلہ ہوتا. اشعار کی موٹی سی کاپی بنا رکھی تھی. اور بار بار آنے والے حروف کے سینکڑوں اشعار لکھ رکھے تھے.اشعارکا میعاری ہونا بھی شرط تھا. ایک دفعہ مجھے لگا کہ میں اور میرا گروپ ہار گئے ہیں. مگر جب مس عباسی نے نتیجہ مرتب کیا تو میری ٹیم کو یہ کہہ کر فاتح قرار دیا کہ دوسری ٹیم کے بیشتر اشعار میعاری نہ تھے. اللہ جانے ایسا ہی تھا. یا میری دل جوئی منظور تھی.
ایک اور واقعہ بھی بہت اہم اور ان کی محبت کا مظہر تھا وہ یہ کہ جب انکل انگلینڈ سے واپس آے تو انہیں اخبار میں لکھنے لکھانے پر اعتراض ہونے لگا. جس کا حل یہ نکالا کہ نام بدل بدل کر لکھنے لگے. قرت العین کے نام سے بھی لکھا کچھ عرصہ بعد نصرت حنا کے نام سے لکھنا شروع کیا. مس کی موجودگی میں ہماری ایک ہم جماعت نے حنا نام رکھنے کی وضاحت چاہی ابھی ہم جواب نہیں دے پاے تھے کہ مس بول اٹھیں. کہ
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد
اس جواب نے ہمیں اس وقت حیران اور بعد کے زمانے میں پریشاں رکھا. کہ حالات و واقعات کی چکی میں پس جانے کے بعد وہ مطلوبہ رنگ آیا یانہیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھایا جیسا وہ ہمیں دیکھنا چاہتی تھیں .غالبا” یہ68 کی بات ہے. کہ صدر ایوب خان نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں ہونے والی ترقی کا جشن منانے کا اعلان کیا. اور اس سلسلے میں ہمارے سکول نے بھی بھر پور انداز میں ہفتہ عشرہ رنگارنگ تقریبات کا ڈول ڈالا. اور بحثیت نگراں مس شکیلہ عباسی نے بھر پور تیاری کروای. کیونکہ ان تقریبات میں عمائدین شہر اور بی ڈی ممبران کی بیگمات نے بھی شریک ہونا تھا -آغا حسین شاہ بی ڈی ممبر تھے ان کی بیگم جوپنجاب سے تھیں -وہ اکثر تقریبات میں شریک ہوتیں اور بہت کھلے دل سے تعریف اور حوصلہ افزائی کرتیں.باقی پروگرام تو خیر ہوتے رہتے تھے. اس دفعہ مشکل یہ آپڑی کہ ایک ڈرامہ بھی سٹیج کرنا تھا. خیر ایک ڈرامہ منتخب کر کے اس کی قطع برید کر کے ڈرامائی تشکیل کی ڈرامے کے تمام کردار چن لئے گئے. مگر ہیروئن کا انتخاب نہ ہو سکا. آخر مس عباسی کی نگاہ انتخاب ہمارے اوپر ہی آکر ٹہر گئ. یہ کردار تم خود ادا کرو گی نہیں میں روہانسی ہوگئ. اداکاری کرنا ہمارے بس کا کام نہیں (تب بھی اورآج بھی )بہت کوشش کی مگر انہوں نے ایک نہ سنی. خیر ریہرسل میں تو کچھ نہ کچھ گزارا چلتا رہا. مگر سٹیج پر جا کر اداکاری کرنے کا سوچ کرہی دل کی دھڑکن ایسی تیز ہوجاتی کہ لگتا تھا پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا. یااللە یہ مشکل گھڑی آکر گزر ہی جاے اس سے پہلے کہ ہم. …
آخر ڈرامے کا دن آپہنچا. بڑے سے گراونڈ میں بڑا سا سٹیج بنا دیا گیا. ڈرامے کے باقی کردار باری باری جاکر اپنا کردار نبھاتے رہے. مجھے آخر میں آکر کچھ المیہ اور جذباتی مکالمے بولنے تھے. جو بہت اچھی طرح یاد کر لئے تھے. مگر یہ کیا سٹیج پر چڑھتے ہی گھبراہٹ میں سب بھول بھال گئے. کچھ دیر خاموش پریشان کھڑی رہی. پریشانی اور گھبراہٹ تو اصلی تھی. لوگوں نے اداکاری سمجھ کر تالیاں بجا کر داد دی. اب تھوڑے سے اوسان بحال ہوے کچھ مکالمے روشن ہوے. مگر بے ترتیب سے. انہیں پتہ نہیں کیسے بڑی مشکل سے ادا کیا اور بس پریشانی میں پاس رکھی کرسی پر ڈھے گئے. پردہ کھینچ دیا گیا. لوگوں نے اس المیہ ڈرامے کے تحت غم و اندوہ سے میرا بے ہوش ہونا سمجھا. جب کہ شرمندگی اور خجالت سے پسینے آگئے. سکرپٹ میرے پاس تھا یا مس عباسی کے پاس اور ہمیں پتہ تھا کہ کتنے مکالمے اور پراثر جملے نہیں بولے گئے.شرمندگی اور خجالت سے ہمارا برا حال تھا. گھر آکر بھی خود کوڈانٹتے رہے ،ملامت کرتے رہے،شرمندہ ہوتے رہے-دوسرے دن سکول جا کر چھپتے پھرے -مگر کہاں تک. آخر بلا بھیجا وہی لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ، توصیفی نگاہیں کہنے لگیں بھئ واہ تمہاری گھبراہٹ اور پریشانی نے تو ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھر ڈالا -مکالمے بھول جانے کی معذرت کی تو ہنس کر کہنے لگیں. کسی کو پتہ نہیں چلا سکرپٹ میرے اور تمہارے پاس تھا. لہذا کوئی نہیں جان سکا کہ کتنے زیادہ مکالمے رہ گئے. ہاے کیسے پیار کرنے والے اساتذہ تھے. جن کی نگاہ دوربین نے سمجھا، نکھارا اورسنوارا.
اور آج یہ سب لکھتےہوے پھر ندامت اور شرمندگی محسوس کر رہی ہوں. کہ کاش سکول سے جانے کےبعد کسی دن ان سے ملنے چلی جاتی اور ان کی محبت اورپیار کا شکریہ ادا کرتی. جیسے میرے جذبات ہیں. ان کا اظہار کرتی تو وہ کتنا خوش ہو جاتیں.
پر اب جب جب اپنی کوتاہی کو یاد کرتی ہوں. تو ان کے لیے بہت بہت دعا کرتی ہوں. کہ اللہ سبحان و تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے. اور وہ اپنی دھیمی مسکان کے ساتھ جنت کے باغوں کی سیر کر رہی ہوں.














خوبصورت
محترمہ شکیلہ عباسی کے والد محترم قاضی سعید احمد اختر عباسی اور ان کے برخوردار جمیل اختر عباسی سے ہمارا گہرا ناتا رہا۔ ان لوگوں کے یہاں ہم نے شعری محفلوں میں بھی بارہا شرکت کی۔ قاضی سعید مرحوم عمررسیدہ تھے مگر نوجوانوں سے بڑھ کر جوان شعر کہتے تھے اور مسکراتے ہوئے جب محفل میں اپنے پوپلے منہ کے ساتھ شوخی بھرے اشعار سناتے تو سامعین ہنس ہنس کر دہرے ہو جاتے تھے۔
ہماری زندہ دل اور سماجی کاموں میں دلچسپی لینے والی چچی بیگم آغا حسین شاہ کے تذکرے کے لئے شکرگزار!