افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں بدھ کو ایک کار بم دھماکے میں کم از کم 100 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کی ذمیداری انتہا پسند تنظیم داعش نے قبول کی لی ہے۔
یہ حملہ کابل کے وزیر اکبر خان کے علاقے میں ہوا جہاں غیر ملکی سفارت خانے اور سرکاری دفاتر واقع ہیں۔
حکام میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اس بڑے حملے کے ہدف کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم افغان سکیورٹی عہدیداروں نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ یہ حملہ جرمنی کے سفارت خانے کے قریب ہوا ہے۔
افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ بم دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے 30 سے زائد گاڑیاں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔
کسی بھی گروپ نے فوری طور پر اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں طالبان عسکریت پسند اور شدت پسند گروپ داعش افغان دارالحکومت میں بڑے حملے کر چکے ہیں۔












