لندن: دہشت گردانہ واقعات میں سات افراد ہلاک، تین ‘حملہ آور’ مار دیئے گئے

0
92

لندن میں پولیس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعے میں سات افراد ہلاک ہو گئے جب کہ ان کے تین حملہ آوروں کو بھی مار دیا گیا ہے۔

ہفتہ کو دیر گئے لندن برج پر مشتبہ حملہ آوروں نے وین لوگوں پر چڑھا دی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں حملہ آور بورو مارکیٹ پہنچے جہاں انھوں نے چاقو سے حملہ کر کے مختلف لوگوں کو زخمی کر دیا۔

پولیس کا کہا تھا کہ ان واقعات میں تین حملہ آور ملوث تھے جنہیں ایمرجنسی سروسز پر کال موصول ہوتے ہیں پولیس نے آٹھ منٹ کے اندر اندر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اپنے جسم کے ساتھ کنستر باندھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ خودکش حملہ آور ہیں لیکن یہ کنستر جعلی تھی۔

لندن ایمبولینس سروس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ اس نے شہر کے چھ مختلف اسپتالوں میں 30 زخمیوں کو منتقل کیا۔

حکام نے اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ مسلح پولیس نے پورے علاقے میں تلاشی کی کارروائی مکمل کر لی ہے جب کہ یہاں واقع کلب اور ریستورانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

لندن کے میئر صادق خان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا وہ اور برطانوی وزیراعظم تھریسا مے ‘کوبرا کرائسز گروپ’ کے ہنگامی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں ہیں لیکن “یہ لندن کے رہنے والوں اور سیاحوں پر دانستہ اور بزدلانہ حملہ تھا۔”

ہفتہ کو لندن برج اور بورو مارکیٹ میں پیش آنے والا واقعہ مارچ سے اب تک برطانیہ میں ہونے والا تیسرا دہشت گرد واقعہ ہے۔ اس سے قبل ویسٹ منسٹر برج پر ایک حملہ آور نے گاڑی پیدل چلنے والوں پر چڑھا دی تھی جس کے بعد مانچسٹر میں ایک خودکش دھماکا ہوا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

وائٹ ہاوس نے ہفتہ کو دیر گئے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو فون کیا اور اس “وحشیانہ دہشت گرد حملے” کی تحقیقات کے میں امریکہ کے “مکمل تعاون” کی پیشکش کی۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ” لندن میں معصوم شہریوں کو نشانے بنانے کے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتا ہے۔”

ایک بیان میں محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ “ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی پولیس ان واقعات کو دہشت گردی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ امریکہ برطانوی حکام کی طرف سے معاونت کی کسی بھی درخواست پر مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔”

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی کہا ہے کہ وہ برطانوی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY