پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی پاناما پیپر کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے سامنے پیشی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

دونوں فریقین کا موقف ہے کہ یہ تصویر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر لیک کی گئی۔

مذکورہ تصویر، جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے، پر 28 مئی کی تاریخ درج ہے، یہ وہی دن ہے جب حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے احاطے میں ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور تفتیش کاروں کے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مذکورہ تصویر کی ‘غیر قانونی اشاعت’ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسے تحقیقات کے قوانین کی ‘سنگین خلاف ورزی’ قرار دیا۔

اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘جے آئی ٹی عدلیہ کی نگرانی میں کام کر رہی ہے، لہذا یہ ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں پر توجہ دیں، جو جے آئی ٹی کے طریقہ کار کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کر رہی ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم پہلے ہی اس حوالے سے سپریم کورٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرچکے ہیں’۔

مصدق ملک نے سوال کیا، ‘اس تصویر کو ریلیز کرنے کا مقصد کیا تھا؟’ ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شریف خاندان کو بدنام کرنے کے لیے یہ تصویر سوشل میڈیا پر ‘وائرل’ کی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اس تصویر کے لیک ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا، اس بات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہ یہ تصویر حکمران جماعت کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو ‘مظلوم’ ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر ‘باقاعدہ پلاننگ’ کے تحت ریلیز کی گئی، پی ٹی آئی نے ان الزامات کی تردید کردی کہ یہ تصویر ان کے کسی کارکن کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

پی ٹی آئی کے کارکن علی حیدر زیدی بھی اُن لوگوں میں سے ایک تھے، جنھوں نے یہ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

تاہم جب اس حوالے سے تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شفقت محمود سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ مذکورہ تصویر ان کے کسی کارکن کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکمران جماعت کی دو رخی حکمت عملی ہے، جو عدلیہ اور جے آئی ٹی کو ایک تنازع میں گھیسٹ کر شریف خاندان کو مظلوم ثابت کرنا چاہتی ہے، شفقت محمود کا کہنا تھا، ‘تصویر کا لیک ہونا دوسری حکمت عملی کا حصہ ہے’۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا کہ حسین نواز کی ایک ایسی تصویر ریلیز کرنا، جس میں وہ ‘قابل رحم’ انداز میں بیٹھے ہیں، نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ ‘قانون اور عدالتی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی’ بھی ہے۔

انھوں نے کہا، ‘اگر عدالت نگرانی کر رہی ہے تو اسے نہ صرف اس تصویر کے لیک ہونے کا نوٹس لینا چاہیے بلکہ اُن تمام دھمکیوں کا بھی نوٹس لینا چاہیے، جو لوگوں کو دستخط کرنے یا دستاویزات واپس لینے پر مجبور کرنے کے لیے دی جارہی ہیں’، یہاں وہ وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کی جانب سے جے آئی ٹی ارکان کے خلاف لگائے الزامات کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY