لندن۔ سید کوثر کاظمی .لندن بریج حملے کی تحقیقات میں مزید پیشرفت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لندن کے ایشیائی علاقے الفورڈ سے ایک 27 سالہ شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اس امرکی تصدیق کی ہے کہ خرّم شہزاد بٹ جسے لندن بریج حملے کا ماسٹر مائنڈ کہا جا رہا ہے اس نے حملے سے دو گھنٹے قبل 7.5 ٹن کا بڑا ٹرک کرائے پر لینے کی کوشش کی .برطانوی سیکورٹی اداروں کا دعوی
کریڈٹ کارڈ کی رقم رک جانے سے ٹرک کے حصول میں کامیاب نا ھو سکا اس لیئے پلان بی پر عمل کرتے ہوۓ وین حاصل کی .

وین سے پٹرول سے بھری 13 بوتلیں بھی برآمد ہوئیں ،اگر دہشت گرد بڑے ٹرک کے حصول میں کامیاب ھو جاتے تو ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی .

رات 2 بجے ادارہ انسداد دھشت گردی برطانیہ کی کاروائی میں

لندن کے علاقے بارکنگ سے ایک اور 28 سالہ شخص گرفتار ہوا ہے جسے

لندن بریج حملے سے تعلق کے شبے میں حراست میں لیا گیا .بارکنگ میں یہ کاروائی الفورڈ سے 27 سالہ شخص کی گرفتاری سے ایک گھنٹہ بعد میں عمل میں لائی گئی .

لندن بریج حملے کے بعد یہ بیسویں گرفتاری ہے

سات افراد ابھی بھی پولیس کی حراست میں جب کہ 13 افراد کو بغیر چارج کیے چھوڑ دیا گیا

سکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن بریج حملے کی تمام کہانی بیان کر دی .

میٹرو پولیٹن پولیس کے محکمہ انسداد دھشت گردی کے کمانڈر ڈین ہیڈن کہتے ہیں

ھفتے کی صبح خرم شہزاد بٹ نے بڑا ٹرک کراے پر لینے کی کوشش کی

کریڈٹ کارڈ سے رقم ٹرک کراے پر دینے والی کمپنی کو منتقل نا ہوئی اور پلان بی پر عمل کرتے ہوے وین کراے پر لی گئی

پانچ بج کر سنتالیس منٹ پر وین ہائر کمپنی سے خرم شہزاد بٹ کو موبائل فون پر ٹیکسٹ میسج موصول ہوا کے وین حاصل کر سکتے ہیں

چھ بج کر تیس منٹ پر خرم شہزاد بٹ یوسف زغبا اور راشد رضوان ایک سرخ گاڑی کورسا میں سوار ہارلڈ روڈ رمفورڈ لندن وین وصول کرنے پہنچتے ہیں

سات بج کر سترہ منٹ پر یہ تینوں بارکنگ کے ایک گھر پر آتے ہیں جہاں یوسف زغبا رھتا ہے

شام سات بج کر اڑتیس منٹ پر یہ تینوں سنٹرل لندن کے لیے روانہ ھوتے ہیں

،نو بج کر اٹھاون منٹ پر یه لندن بریج پہنچتے ہیں اور بریج کے تین چکر لگاتے ہیں
تیسرے چکر میں وین لندن بریج پر موجود راہگیروں پر چڑھا دیتے ہیں ۔

دس بج کر سات منٹ پر وین بریج کی ساؤتھ سائیڈ ریلنگ میں پھنس جانے کے بعد تینوں دہشت گرد ہاتھوں میں چاقو اٹھائے وین سے اترتے ہیں اور لوگوں پر وار کرتے ہیں ان راہگیروں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے

دس بج کر آٹھ منٹ پر پولیس کو واقعہ کی پہلی اطلاع موصول ہوتی ہے

دس بج کر سولہ منٹ پر آٹھ مسلح پولیس افسران کی فائرنگ سے تینوں دہشت گرد ہلاک کر دیے جاتے ہیں .پولیس کی طرف سے 46 راؤنڈ فائر ہوتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY