وزیراعظم 15 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے

0
959

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیراعظم کو طلب کرلیا ہے اور وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی کا سمن بھی موصول ہوگیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو گزشتہ روز جے آئی ٹی کی جانب سے سمن موصول ہوا تھا جس کے بعد پارٹی رہنماؤں اور قانونی مشیروں سے مشاورت کی گئی جہاں سمن کی تعمیل کرتے ہوئے پیش ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم سمن کے مطابق جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز پانچ مرتبہ جے آئی ٹی کےسامنے پیش ہوچکے ہیں جبکہ چھوٹے صاحبزادے حسن نواز دومرتبہ پیش ہوئے، اس کے علاوہ نیشنل بینک کے سربراہ سمیت دیگر بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

پاناما پییر کیس اور جے آئی ٹی کی تشکیل
یاد رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ
اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY