آڈیو لیکس کیس: سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کارروائی سے روک دیا

0
1057

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آڈیو لیکس کیس میں مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 29 مئی اور 25 جون کے احکامات معطل کر دیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ جس کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا ہے اور اس کی تفتیش جاری ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنا چاہتا۔ سچ جاننے کے لیے انکوائری کمیشن بنا۔ اسے سپریم کورٹ سے اسٹے دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا۔

انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا۔ نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟

‘ہو سکتا ہے خود کال ریکارڈ کر کے لیک کی گئی ہو’

جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو۔ آڈیو انہوں نے خود لیک کی ہو۔ کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کارروائی آگے نہ بڑھائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY