پہلا پتھر ۔ ۔ ۔جاہل کی طرف سے ہوتا اسکی جہالت کا پتھر ۔ ۔ ۔شعور کو۔ ۔ ۔علم کو۔ ۔ ۔بحر کو ۔ ۔ ۔بصیرت کو کیوں کہ جہالت اپنی شکست سہ نہیں سکتی کہ جن زہنوں پر اس نے زمانوں سے راج کیا ہے اس سلطنت پہ کوئی آکر اسے بے گھر کرے تو وہ پتھر لیے میدان میں اتر پڑتی ہے اپنی آنا کو تسکین دینے کے لیے۔ ۔ ۔ ۔اہنی ‘ میں ‘ اور اپنے’ غلط ‘ ، کو درست ثابت کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔
پہلا پتھر اس جلن کا ہوتا ہے جو علم اور سکون کے باعث پھیلنے والی مہک کی ضد میں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
پہلا پتھر ۔ ۔ ۔شعور و بصیرت سے خوفزدہ شخص اس سمندر میں پھینکتا ہے جو اس سمندر میں جزب حسن، گہرائیوں اور روانیوں کو سمجھ نہیں سکتا اور خود نہ سمجھنے پانے کی اہلییت نہ رکھنے کے باعث وہ اپنا بدلہ اس پتھر کو مار کر پورا کرتا ہے ۔ ۔ ۔وہ پتھر کبھی گالی، کبھی غصے، کبھی نفرت، کبھی مار دھاڑ حتی
کے اس سمندر کو قتل کرنے کی کوشش کی صورت میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔جس سے اس پھینکنے والے کے خوف، جہالت ، نادانی اور جزباتیت کا واضح اظہار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













