ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ڈی ایم اے) حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی فائرنگ سے 832 لوگ جاں بحق جبکہ 3 ہزار لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر امور کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے رکن خلیل جارج کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا معاملہ زیر غور آیا۔

ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے سیکریٹری ڈی جی نے اجلاس کو بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی سوا 4 لاکھ سے زائد آبادی ایل او سی پر واقع ہے جو بھارتی فائرنگ کی زد میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی فائرنگ کے واقعات میں 832 لوگ جاں بحق اور 3 ہزار لوگ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ بھارتی جارحیت سے 3 ہزار 300 مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔

اجلاس میں جموں و کشمیر حکومت کے ترجمان بھی شریک ہوئے، جنہوں نے شکایت کی کہ بھارتی جارحیت سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 3 لاکھ جبکہ زخمیوں کو 1 لاکھ امداد دی جاتی ہے، تاہم پاکستان اس سلسلے میں کوئی تعاون نہیں کر رہا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے اصرار کیا کہ وہ اصل صورتحال جاننے کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم آزاد جموں و کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈولپمینٹ ڈاکٹر سید آصف حسین نے انہیں بتایا کہ کچھ عرصے سے بھارت کا رویہ بہت خراب ہے اس لیے سیکیورٹی ایجنسیز نے ارکان پارلیمنٹ کو ایل او سی کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے اور صورتحال بہتر ہونے کے بعد ایل او سی کا دورہ کیا جاسکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی کی جانب سے بھارت کی طرف سے مظلوم کشمریوں پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی خلیل جارج کا کہنا تھا کہ بھارت مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا۔

SHARE

LEAVE A REPLY