اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے شکوے شکایتوں پر جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’سیل کی دیوار تڑوادی، کمرہ بھی تڑوادوں کیا؟‘ جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی جانب سے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب دوران تفتیش عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل اور ترجمان قانونی امور نعیم پنجوتھہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ ’آپ کے آرڈر پر عمل درآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاء کو چیئرمین پی ٹی آئی سے نہیں ملنے دیا جاتا‘،

اس پر جج نے کہا کہ یہ ’ایڈمنسٹریٹو معاملات ہیں، جیل مینوئل کو مدنظر رکھ کر جیل میں معاملات چلتے ہیں، اگر عمران خان سے زیادہ وکلاء کی میٹنگ ہوں تو معاملات دیکھنے پڑتے ہیں‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY