وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پیش ہونے کے بعد باہر آگئی ہیں۔
جے آئی ٹی سے باہر آنے کےبعدمریم نواز کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سےایک سوال کیا کہ ہم پر الزام کیا ہے ،لیکن انہوں نے میرے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مریم نوازنے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر میں میرا کوئی نام نہیں ہےاور یہ پہلی جے آئی ٹی ہے جو الزام ڈھونڈ رہی ہے۔آج وہ قرض بھی ادا کردیا جو واجب ہی نہیں تھا۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ پاکستان کے جتنے بھی بڑے پراجیکٹس ہیں اس پرن لیگ اور نواز شریف کی مہر ہے۔جھکانے اور رلانے طاقت صرف اللہ کے پاس ہے اور یہ پہلا نہیں پانچواں احتساب ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی کرپشن نہیں ہوئی اس لیے سامنے نہیں آئی تھی جبکہ باپ کو بیٹی کے نام پر دبائو میں لایا گیا ہے۔ ساٹھ، ستر ، اسی کے کاروبار کے متعلق ہی سوال گھوم رہے ہیں۔کاروبار کا سوال پوچھنا بنتا ہے نہ جواب دینا بنتا ہے۔عوام کا کوئی پیسا واجب الادا نہیں ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ پاناما لیکس پہلی نہیں جس میں مجھے شامل کیا گیا اس سے پہلے تو مجھے ڈان لیکس میں بھی شامل کیا گیا تھا۔نواز شریف کی بیٹی لڑنا جانتی ہےاورسازشیں نہ رکیں تو نواز شریف چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیر اعظم بنیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم بھی اقتدار کے ایوانوں میں چھپ سکتے تھے ۔ ہم بھی نتھیا گلی کے ریسٹ ہائوس میں جا کر چھپ سکتے تھےاورہم بھی کمردرد کا بہانہ بناکراپنی گاڑی اسپتال لےجاسکتے تھے۔
مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے کھڑے ہیں۔دادا، بیٹے اور پوتوں تک خاندان کا کتنا احتساب کیا جائے گا۔بے رحمانہ احتساب کا باربارسامنا کیا ہے جبکہ میرے والد تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم کی بیٹی کہتی ہیں کہ والد ،چچا اور بھائیوں کی پے درپے پیشیوں کے بعد پیش ہوئی اور ہم نے حساب دیا اوردے رہے ہیں ،تین نسلوں کا حساب دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ شخص اگلی دنیا تو کیا شاید اس دنیا میں بھی جواب نہ دے سکےاور مجھے جھوٹ اوربہتان لگانےوالےانسان کی دنیا اور آخرت سے خوف آتاہے۔
آخر میں انہو ں نے ن لیگی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کارکن مجھ سےیکجہتی کے لیے آئے میں ان کی شکرگزار ہوںاور ساتھ جن لوگوں نے پیغامات بھجوائے ، ان کی بھی شکرگزار ہوں۔













