جے آئی ٹی رپورٹ پرتیسری سماعت آج ہو رہی ہے

0
157

جے آئی ٹی رپورٹ پرتیسری سماعت آج بدھ کو ہو رہی ہے

گزشتہ روز دوسری سماعت کے موقع پر وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے تھے

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی عمل درآمد بینچ مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کا مقصد شریف خاندان کو موقع دینا تھا، شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ معاملہ نیب کو بھیجیں یا نااہلی سے متعلق فیصلہ کردیں۔

وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے حکم میں تحقیقات کی سمت کا تعین کرچکی ہے اور عدالت عظمیٰ نے 13 سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

خواجہ حارث کے مطابق جے آئی ٹی کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ گلف اسٹیل ملز کیسے بنی اور کن وجوہات کی بنا پر فروخت ہوئی؟ پیسہ جدہ، لندن اور قطر کیسے گیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو وزیراعظم کے نامی دار اور زیر کفالت افراد کے اثاثوں کی چھان بین کا بھی حکم دیا تھا جبکہ نیب اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس دستیاب شواہد کے ذریعے لندن فلیٹس سے متعلق جائزے کا کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو ایک کیس جس کا فیصلہ ہوچکا،اس کو دوبارہ کھولنے کا نہیں کہا گیا، نہ ہی کسی مزید گواہ سے پوچھ گچھ کا کہا گیا۔

یرسٹر اعتزاز احسن کہتے ہیں، سپریم کورٹ جے آئی ٹی رپورٹ کو ماننے کی پابند نہیں لیکن شریف خاندان کے بارے میں تلخ حقائق سامنے آچکے ہیں، نواز شریف کی نااہلی کے امکانات واضح ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء اور سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے امکانات واضح ہیں، شریف خاندان سے متعلق تلخ حقائق سامنے آچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات درست ہے کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ ماننے کی پابند نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY