عدالتی کا دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے پر برہمی کا اظہار

0
154

آج سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے مزید دستاویزات جمع کروائیں، عدالتی بینچ نے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے دستاویزات وقت پر جمع کروانے کا کہا تھا۔

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں نے اپنے طور پر کوشش کی۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ تمام دستاویز میڈیا پر زیر بحث رہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میڈیا پر جاری ہونے والی دستاویزات میں ایک خط سابق قطری وزیراعظم کا بھی ہے۔

جبکہ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ آپ نے میڈیا پر اپنا کیس چلایا تو میڈیا کو دلائل بھی دے دیتے۔

جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میڈیا پر دستاویزات میری جانب سے جاری نہیں ہوئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے دوبارہ نشاندہی کی کہ اب تک ہم آمدن کا ذریعہ اور منی ٹریل نہیں ڈھونڈ سکے۔

جسٹس عظمت سعید نے واضح کیا کہ لندن فلیٹس کے نیلسن اور نیسکول کی ملکیت ہونے پر کوئی جھگڑا نہیں ہے اور موزیک فونسیکا کے مطابق مریم نواز فلیٹس کی مالک ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ اُن (موزک فونسکا) کا کہنا ہے کہ مریم مالک ہیں جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ حسین مالک ہیں، فرق تو نہیں ہے۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے واضح کیا کہ بہت فرق ہے، اگر مریم مالک ہیں تو ہم فنڈز کو بھی دیکھیں گے۔

جسس اعجاز افضل نے پھر نشاندہی کی کہ 1993 میں بچوں کی عمریں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلیٹس نہیں خرید سکتے تھے۔

3 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ فلیٹس وزیراعظم نے خریدے اور درخواست گزار کہتے ہیں کہ وزیراعظم فنڈز بتائیں۔

جسٹس عظمت سعید نے نشاندہی کی کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے؟ تو کہہ دیتے ہیں کہ نیب کا سیکشن 9 اے 5 کرپشن کے حوالے سے ہی ہے۔

عدالتی بینچ نے سلمان اکرم راجا کی جانب سے پیش کی گئی بیشتر دستاویزات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دستاویزات کی یو اے ی کی وزارت انصاف نے پہلے ہی تردید کردی تھی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ منی ٹریل کا جواب اگر بچے نہ دے سکیں تو اس کے نتائج پبلک آفس ہولڈر (یعنی وزیراعظم) پر مرتب ہوں گے اور انہیں بھگتنا پڑے گا اور ہم ان کے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY