ریلوے ڈرائیوروں کے ساتھ سکھر میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے، وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ ریلوے کا پہیہ جام کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور ریلویز کا پسنجر آپریشن پوری طرح بحال ہو چکا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے ڈرائیورز کی ہڑتال کا اقدام بلا جواز اور بلیک میلنگ تھی، ٹرین ڈرائیوروں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کا عندیہ پہلے ہی دے چکے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کےضیاع کے ذمہ دار ڈرائیوروں کو قانون کے شکنجے سے نہیں نکال سکتے۔ہڑتال پر نہ جانےوالے ڈرائیوروں،مینجمنٹ اور پولیس کا شکر گزار ہوں۔
وفاقی وزیر سعد رفیق نے اڑتالیس گھنٹے میں تمام ٹرینوں کی وقت پر آمد اور روانگی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
برطرف ملازمین کی بحالی ،پے اسکیل بڑھانے اور دیگر مطالبات پورے نہ کیے جانے پر ریلوے ڈرائیوروں نے رات بارہ بجے ہڑتال کردی تھی۔
ہڑتالی ڈرائیوروں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے متبادل ڈرائیورز کا بندوبست کرکے آپریشن بحال کردیا۔
ریلوے انتظامیہ نے کنٹریکٹ پر رکھے گئے ڈرائیور بلوا کر روہڑی پر رکی قراقرم ایکسپریس ، فرید اور ملت ایکسپریس چلوا دیں جبکہ لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار نائٹ کوچ بھی روانہ کردی گئی۔ جب کہ ریلوے پولیس نے 13 ٹرین ڈرائیورز کو گرفتار کرلیا۔

ریلوے ڈرائیورز کی مطالبات کے حق میں ہڑتال کے باعث مسافروں کی بڑی تعداد کئی گھنٹوں تک مختلف سٹیشنز پر انتظار کی سولی پر لٹکتی رہی ۔ انتظامیہ کے ایکشن کے بعد مختلف ٹرینوں کو متبادل عملے کے ساتھ روانہ کر دیا گیا ، کراچی میں ٹرین ڈرائیورز نے ہڑتال ختم کر دی ، عوام ایکسپریس منزل کی جانب رواں دواں ہے ۔ ریلوے ڈرائیورز کی مطالبات کے حق میں ہڑتال کے باعث ریلوے کا پہیہ رات بھر جام رہا ۔
ریلوے ڈرائیورز نے تیزگام ، قراقرم ایکسپریس ، فرید ایکسپریس ، خیبر میل ، علامہ اقبال ، ملت ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس کو روہڑی ، محراب پور ، خیرپور اور دیگر سٹیشن پر روکا جس کے باعث ٹرینوں کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ ہڑتال کے باعث لاہور ریلوے سٹیشن پر شالیمار ایکسپریس ، کراچی ایکسپریس ، نائٹ کوچ سمیت متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوگئیں ۔ مسافر انتظار کی سولی پر لٹک گئے ۔
کراچی ریلوے سٹیشن پر بھی ڈرائیور کی ہڑتال کے باعث مسافر ٹرین کا انتظار کرتے رہے اور ریلوے انتظامیہ کوستے رہے ۔ روہڑی ریلوے سٹیشنز پر بھی ٹرینوں کی ہڑتال کے باعث مسافر پریشانی سے دو چار رہے اور اس انتظار میں رہے ٹرین کب آئے گی ۔ ٹرین ڈرائیور کے مطالبات تھے کہ مائلج الاؤنس ، برطرف ڈرائیوروں کی بحالی اور پے سکیل اپ گریڈ کیا جائے ۔ ہڑتال کے بعد حکام ایکشن میں آئے ، متبادل ڈرائیوز کا انتظام کیا اور مختلف ٹرینوں کو منزل کی جانب روانہ کیا ۔ کراچی میں ٹرین ڈرائیورز نے ہڑتال ختم کر دی ۔ کینٹ ریلوے سٹیشن سے عوام ایکسپریس تاخیر سے روانہ کر دی گئی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY